تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 376
میں گئے۔اور اگر مسلمانوں کا رویہ اُن سے اچھا رہا اور خدا کرے اچھا ر ہے تو ان کی ہمدردی مشرقی سکھ سے بالکل جاتی رہے گی اور کوئی مالی امداد وہ اُسے نہ دیں گے۔اور مشرقی علاقہ کا سیکھ جو پہلے ہی بہت غریب ہے اپنی تعلیمی اور تہذیبی انجمنوں کو چلو نہ سکے گا۔دوسرے اُسے یہ نقصان ہوگا کہ سکھ قوم مشرقی حصہ میں اقتصادی طور پر اپنا سر اونچا نہ رکھ سکے گی۔تیرے اس سے یہ نقص پیدا ہو گا کہ ہوشیار پور ، فیروزپور جالندھر اور لدھیانہ کے سکھ پہلے سے بھی زیادہ غیر ملکوں کی طرف جانے کے لئے مجبور ہوں گے۔اور مشرقی پنجاب کے سکھوں کی آبادی روز بروز گرتی چلی جائے گی اور شاید چند سال میں ہی مشرقی پنجاب میں بھی سیکھ چودہ فیصدی پر ہی آجائیں۔پانچویں اس امر کا بھی خطرہ ہے کہ اس بٹوارے کی وجہ سے مغربی پنجاب کی حکومت یہ فیصلہ کرے کہ وہ زمین جو مشرقی پنجاب کے لوگوں کو مغربی پنجاب میں جنگی خدمت کی وجہ سے دی گئی ہے وہ اس بنیاد پر مضبوط کر لی جائے کہ اب ان مقدمات کا صلہ دینا نٹے ہندو مرکز کے ذمہ ہے۔کوئی وجہ نہیں کہ جب وہ لوگ الگ ہو گئے ہیں تو اس خدمت کا صلہ جو در حقیقت مرکزی مقدمت تھی وہ صوبہ دے جس کا وہ شخص سیاسی باشندہ بھی نہیں ہے۔زمیندارہ نقصان کے علاوہ کہ سکھوں کی دو تہائی جائیداد مغربی پنجاب میں رہ جائے گی ایک اور بہت بڑا خطرہ بھی ہے۔اور وہ یہ کہ جو سکھ تجارت کرتے ہیں ان میں سے اکثر حصہ کی تجارت مغربی پنجاب سے وابستہ ہے سوائے سردارہ بلدیو سنگھ صاحب کے جن کی تجارت ہندو علاقہ سے وابستہ ہے ، باقی سب سکھ تجارت مسلمان علاقہ سے وابستہ ہے۔سکھوں کی تجارت بجیسا کہ سب لوگ جانتے ہیں پنجاب میں راولپنڈی، کوئٹہ ، جہلم اور بلوچستان سے وابستہ ہے۔اور تجارت کی ترقی کے لئے آبادی کی مدد بھی ضروری ہوتی ہے جب سکھوں کی دلچسپی مغربی پنجاب اور اسلامی علاقوں سے کہ ہوگی تو از ما می تجارت کو بھی نقصان پہنچے گا سوائے سردار بلدیو سنگھ صاحب کے جن کی تجارت بہار سے وابستہ ہے اور کونسا بڑا اسکھ تاجر ہے جو مشرقی پنجاب یا ہندوستان میں وسیع تجارت رکھتا ہو۔ساری کشمیر کی تجارت جو راولپنڈی کے راستہ سے ہوتی ہے یا جہلم کے ذریعہ سے ہوتی ہے سکھوں کے پاس ہے۔ایران سے آنے والا مال اکثر سکھوں کے ہاتھ سے ہندوستان کی طرف آتا ہے اور اس تجارت کی قیمت کروڑوں تک پہنچتی ہے۔اگر یہ تاجر موجودہ افرا تفری میں اپنی تجارتوں کو بند کریں گے تو نئی جگہ کا پیدا کرنا ان کے لئے آسان نہ ہوگا اور اگر وہ اپنی جگہ پر رہیں گے تو اسلامی حصہ ملک میں اُن