تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 378 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 378

ک وسلم پس پیشتر اس کے کہ سیکھ صاحبان پنجاب کے بٹوارے کے متعلق کوئی فیصلہ کریں انہیں ان سب امور پر غور کر لینا چاہیے تا ایسا نہ ہو کہ بعد میں اس مشکل کا حل نہ نکل سکے اور پچھتانا پڑے۔بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ اگر مشکلات پیدا ہوائیں اور ان کا کوئی علاج نہ نکلا تو اس وقت پھر سیکھ صاحبان مغربی پنجاب میں آسکتے ہیں لیکن یہ خیال درست نہیں۔اس لئے کہ اگر اب سکھ صاحبان پنجاب کے بٹوارے کے خلاف رائے دیں تو اُن کے ووٹ مسلمانوں کے ووٹوں سے مل کر بٹوارے کو روک سکتے ہیں لیکن اگر بعد میں انہوں نے ایسا فیصلہ کیا تو یہ صاف بات ہے کہ انبالہ ڈویژن ان کے ساتھ شامل نہ ہوگا۔اور اگر مغربی پنجاب سے ملا تو صرف بجالندھر ڈویژن ملے گا اور اس وقت پنجاب کی یہ حالت ہوگی کہ اس میں پندرہ فیصدی سکھ ہوں گے۔اور پندرہ فیصدی ہندو اور ستر فیصدی مسلمان جان کر متحدہ پنجاب کی صورت میں بیالیس فیصدی ہندو اور سیکھ ہوں گے اور چھپن فیصدی مسلمان اور دو فیصدی دوسرے لوگ نظاہر ہے کہ چونتالیس فیصدی کو حکومت میں جو آواز اور اثر رکھتے ہیں وہ تیس فیصدی لوگ کسی صورت میں نہیں رکھ سکتے۔پس بعد کی تبدیلی کسی صورت میں سکھوں کو وہ فائدہ نہیں پہنچا سکتی جو اس وقت کی تبدیلی پہنچا سکتی ہے کیونکہ ایک دفعہ پنجا بانٹا گیا تو پھر انبالہ ڈویژن کو واپس لانا سکھوں کے اختیار سے باہر ہو جائے گا۔سکھ صاحبان کو یہ امر بھی نہیں بھولنا چاہئیے کہ ابھی سے ہندوؤں کی طرف سے یہ آواز اٹھائی جا رہی ہے کہ یوپی کے چند اضلاع ملا کہ مشرقی پنجاب کا ایک بڑا صوبہ بتا دیا جائے۔اگر ایسا ہو گیا تو اس نئے صوبہ میں ہندو ساٹھ فی صدی مسلمان میں فی صدی اور سیکھ صرف دس فی صدی رہ جائیں گے۔بعض سیکھ صاحبان یہ کہتے سنے بجاتے ہیں کہ جالندھر ڈویژن کی ایک سیکھ ریاست بنادی جائے گی۔بیشک اس صورت میں سکھوں کی آبادی کی نسبت اس علاقہ میں بڑھ جائے گی۔مگر اس صورت میں بھی مختلف قوموں کی نسبت آبادی یوں ہوگی ۱۶۰ ۲۵ سکھ ، ۳۴٫۵۰ مسلمان اور تقریباً چالیس فیصدی ہندو۔اس صورت حالات میں بھی سکھوں کو زیادہ فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔پرانے پنجاب میں بھی تو سکھوں کو بہا میں فیصدی نمائندگی ملی ہوئی تھی۔پس اگر جالندھر ڈویژن کا الگ صوبہ بھی بنا دیا گیا۔تو اس سے ہندوؤں اور مسلمانوں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچے گا کیونکہ انبالہ ڈویژن کے الگ ہو جانے کی وجہ سے انبالہ صوبہ پر تھی طور پر سہندوؤں کا قبضہ ہو جائے گا اور جالندھر ڈویژن میں بوجہ بھائیس فیصدی رہ جانے کے سیکھ ان سے اپنے لئے زیادہ نمائندگی کا مطالبہ نہیں کر سکیں گے اور توازن بہت مضبوطی سے بہندوؤں