تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 375 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 375

ہیں۔پرانے پنجاب میں چودہ فیصدی سکھوں کو اکیس فیصدی حصہ ملا ہوا تھا۔اب اٹھارہ فیصدی سکھر مشرقی پنجاب میں ہو گئے ہیں۔اگر ہند و جو تعداد میں اول نمبر پر ہیں مسلمانوں کی طرح اپنے حق سے سکھوں کو دیں تو سکھوں کو نئے صوبہ میں چھبیس فیصدی حق ملنا چاہیئے۔گو سکھ پرانے انتظام پر خوش نہ تھے۔اسی وجہ سے انہوں نے صوبه تقسیم کر وایا ہے۔اس لئے انہیں ہندوؤں سے تیس فیصدی ملے تو وہ تب دُنیا کو کہہ سکتے ہیں کہ دیکھو پرانے پنجاب سے ہم زیادہ فائدہ میں رہے ہیں۔مسلمانوں نے ہمیں ڈیوڑھا حق دیا تھا۔اب ہندوؤں نے اپنے حق سے کاٹ کر ہمیں پونے دو گنا دے دیا ہے۔اس لئے ہمارا بٹوارہ پر زور دینا درست تھا لیکن اگر ایسا نہ ہو اور ہندوؤں نے اپنے حصہ سے اس نسبت سے بھی سکھوں کو نہ دیا جس نسبت سے پرانے پنجاب میں مسلمانوں نے سیکھوں کو دیا تھا تو سکھ قوم لازم گھر بیٹھے میں رہے گی۔نئے صوبہ میں اٹھارہ فیصدی سیکھ ہوں گے بتیس فیصدی مسلمان اور پچاس فیصدی ہندو۔اگر ہندو اسی نسبت سے اپنا حق سکھوں کو دیں جس طرح مسلمانوں نے پنجاب میں دیا تھا تو سکھوں کو چھیلیں فیصدی حق مل جائے گا اور نمائندگی کی یہ شکل ہوگی کہ بیتیس فیصدی مسلمان چھبیس فیصدی سکھ اور بیالیس فیصدی ہندو لیکن اول تو ایسا کوئی وعدہ ہندوؤں نے سکھوں سے اب تک نہیں کیا۔وہ غالباً یہ کوشش کریں گے کہ مسلمانوں کے حق سے سکھوں کو دینا چاہیں۔لیکن سکھوں کو یاد رکھنا چاہئیے کہ اس سے فتنہ کا دروازہ کھلے گا جب مسلمان زیاد تھے انہوں نے اپنے حصہ سے سکھوں کو دیا۔اب ہندو زیادہ ہیں انہیں اپنے حصہ سے سکھوں کو دیتا پہنچے ورنہ تعلقات ناخوشگوار ہو جائیں گے۔فرض کرد که مند و سکھوں کو اپنی نیابت کے حق سے دے بھی دیں یقینا انہیں مسلمانوں نے اپنے حق سے دیا ہوا تھا تو پھر بھی سکھ صاحبان کو ان امور پر غور کرنا چاہیے۔(1) تمام سیکھ امراء منٹگمری ، لائل پور اور لاہور میں بستے ہیں۔اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ لائل پور متشکری اور لاہور کے سیکھ زمین ندارہ کو ملا کہ فی سیکھ آٹھ ایکڑ کی ملکیت بنتی ہے۔لیکن لدھیانہ ، ہوشیار پور فیروز پور ، امرتسر کی سکھ ملکیت کے لحاظ سے ایک ایکڑ فی سکھ ملکیت ہوتی ہے۔کیونکہ لدھیانہ اور بھالندھر میں سکھوں کی ملکیت بہت کم ہے اور اسی وجہ سے وہ زیادہ تر مزدوری پیشہ اور فوجی ملازم ہیں یا ملک سے باہر جا کہ غیر ممالک میں کمائی کرتے ہیں۔اس وجہ سے اگر یہ تقسیم قائم رہی تو اس کا ایک نتیجہ یہ نکلے گا کہ مالدار سکھ مغربی پنجاب سے جا