تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 374 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 374

میں رہنے والے) ۲۱ لاکھ مشرقی پنجاب میں پچھلے گئے ہیں اور سترہ لاکھ مغربی پنجاب میں رہ گئے ہیں۔گویا ۴۵ فی صدی سکھ مغربی پنجاب میں پہلے گئے ہیں اور 20 فی صدی مشرقی پنجاب میں۔اور تینوں قوموں کی موجودہ سیاست یہ ہو گئی ہے۔ہندو ننانوے فی صدی اپنے مرکز میں جمع ہو گئے ہیں مسلمان ہونٹو ایدی اپنے دور کان میں جے ہوتے ہیں سکے پیچھے نصوری ایسے دو مرکزوں میں جمع ہو گئے ہیں جہاں انہیں اکثریت کا حاصل ہوتا تو الگ رہا پچیس فیصدی تعداد بھی انہیں حاصل نہیں۔کیا اس صورت حالات پر سکھ خوش ہو سکتے ہیں ؟ بات یہ ہے کہ اس بٹوارہ سے ہندوؤں کو بے اشتہار فائدہ پہنچا ہے مسلمانوں کو اخلاقی طور پر فتح حاصل ہے لیکن مادی طور پر نقصان سکھوں کو مادی طور پر بھی اور اخلاقی طور پر بھی نقصان پہنچا ہے۔گویا سب سے زیادہ گھاٹا سکھوں کو ہوا ہے اور اس سے کم مسلمانوں کو۔بہندوؤں کو کسی قسم کا بھی کوئی نقصان نہیں ہوا۔صرف اس عقیمت میں کمی آئی ہے جو وہ حاصل کرنا چاہتے تھے۔لیکن ابھی وقت ہے کہ ہم اس صورت حالات میں تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش کریں۔۲۳ تاریخ کے بعد پھر یہ سوال آسانی سے مل نہ ہو سکے گا۔سکھ صاحبان جانتے ہیں کہ احمدیہ جماعت کو کوئی سیاسی اور مادی فائدہ اس یا اس سکیم سے حاصل نہیں ہوتا۔احمدی جماعت کو ہر طرف سے خطرات نظر آرہے ہیں۔ایک پہلو سے ایک خطرہ ہے تو دوسرے پہلو سے دوسرا۔پس میں جو کچھ کہہ رہا ہوں عام سیاسی نظریہ اور سکھوں کی خیر خواہی کے لئے کہہ رہا ہوں۔میں جس علاقہ میں رہتا ہوں گو اس میں مسلمانوں کی اکثریت ہے لیکن سیکھ اس علاقے میں کافی ہیں اور ہمارے ہمسائے ہیں اور ان کی نسبت آبادی کوئی ۳۳ فیصدی تک ہے۔اس لئے سکھوں سے ہمارے تعلقات بہت ہیں۔بعض سکھ رو سار سے سہارا خاندانی طور پر مہاراجہ رنجیت سنگھ کے زمانہ سے بھائی چارہ اب تک چلا آتا ہے۔اس لئے میری رائے محض خیر خواہی کی بناء پر ہے۔میرا دل نہیں چاہتا کہ سیکھ صاحبان اس طرح کٹ کر رہ جائیں۔اگر تو کوئی خاص فائدہ سکھوں کو پہنچتا تو میں اس تجویز کو تریدی معقول سمجھتا۔مگر اب تو صرف اس قدر فرق پڑا ہے کہ سارے پنجاب میں مسلمان اول تھے ، ہند و ردم ، اور سکھ سیدم۔اور اب مشرقی پنجاب میں ہندو اول مسلمان دوم اور سکھ سوم ہیں سکھ اگر اس بٹوارے ہے سے دوم ہو جاتے تو کچھ معقول بات بھی تھی۔مگر صرفت مسلمان اول سے دوم ہو گئے ہیں اور سہندو دوم سے اوّل سکھوں کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔پرانے پنجاب میں مسلمانوں نے اپنے حق سے ساڑھے پانچ فیصدی سکھوں کو دے دیا تھا۔اب تک ہندوؤں کی طرف سے کوئی اعلان نہیں ہوا کہ وہ کتنا حصہ اپنے حصہ میں سکھوں کو دینے کو تیار