تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 368
۳۵۷ کیونکہ ہمارے استفسار کیر اس کی حکومت کی طرف سے لکھا گیا تھا کہ بیشک احمدی مبلغ بھیجوا دیئے جائیں اب وہ وحشت کا زمانہ نہیں رہا ، ہر ایک کو مذہبی آزادی حاصل ہوگی لیکن جب ہمارے مبلغ وہاں پہنچے تو اس نے انہیں قتل کر دیا۔پھر یہ بھی نہیں کہ جلیب اللہ کو سزا نہیں ملی۔وہ بھی اس سزا سے باہر نہیں رہا کیونکہ اس کی ساری نسل تباہ ہو گئی۔یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ اللہ تعالے نے صرف امان اللہ کا بدلہ نہیں لیا بلکہ اس بدلہ میں جلیب اللہ اور عبد الرحمن بھی شامل ہیں۔پس یہ ہے ہمارا تیرا نقطہ نگاہ۔ان تینوں نقطہ ہائے نگاہ سے دیکھتے ہوئے ہمارے لئے گھبراہٹ کی کوئی وجہ نہیں ہوسکتی۔ہم نے تو اس معاملہ کو انصاف کی نظروں سے دیکھتا ہے اور انصاف کے ترازو پر تولتا ہے۔ہندوؤں کے ہاں انصاحت کا یہ حال ہے کہ برابر سو مسال سے ہندو مسلمانوں کو تباہ کرتے پہلے آرہے تھے اور صرف ہندو کا نام دیکھ کر ملازمت میں رکھ لیتے رہے اور مسلمان کا نام آنے پر اس کی درخواست کو مسترد کر دیتے رہے جب درخواست پر دلارام کا نام لکھا ہوتا تو درخواست کو منظور کر لیا جاتا رہا۔اور جب درخواست پر عبد الرحمن کا نام آبھاتا تو اُسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جاتا۔اس بات کا خیال نہ رکھا جاتا رہا کہ دلارام اور عبد الرحمن میں سے کون اہل ہے اور کون نا اہل۔اس بات کو ملحوظ نہ رکھا جاتا رہا کہ نگا رام اور عبید الرحمن میں سے کون قابل ہے اور کون ناقابل، اور اس امر کو پیش نظر نہ رکھا جاتا رہا کہ دلا رام اور عبدالرحمن میں سے کون لائی ہے اور کون نالائق۔صرف ہندوانہ نام کی وجہ سے اُسے رکھ لیا جاتا اور صرف اسلامی نام کی وجہ سے اُسے رد کر دیا جاتا۔ہم نے ان حالات کی وجہ سے بار بار شور مچایا۔ہندو لیڈروں سے اس فلم کے انسداد کی کوشش کے لئے کہا مگر کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی اور رنگتی بھی کیسے، وہ اپنی اکثریت کے نشے میں چور تھے ، وہ اپنی حکومت کے رعب میں مدہوش تھے اور وہ اپنی طاقت کی وجہ سے بدست تھے۔انہوں نے مسلمانوں کو ہر جہت سے نقصان پہنچانے کی کوششیں کیں۔انہوں نے مسلمانوں کی ہر ترقی کی راہ میں روکاوٹیں ڈالیں اور انہوں نے مسلمانوں کے خلاف ہر مسکن سازشیں کیں۔اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ہم مظلوم قوم کی مدد کریں۔چاہے وہ ہمیں ماریں یا دکھ پہنچائیں۔ہمیں تو ہر قوم نے ستایا اور دُکھ دیا ہے لیکن ہم نے انصاف نہیں چھوڑا۔جب