تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 369
۳۵ ہندوؤں پر مسلمانوں نے ظلم کیا ہم نے ہندوؤں کا ساتھ دیا۔یجب مسلمانوں پر سہندوؤں نے ظلم کیا ہم نے مسلمانوں کا ساتھ دیا۔جب لوگوں نے بغاوت کی ہم نے حکومت کا ساتھ دیا۔اور جب حکومت نے نا واجب سختی کی ہم نے رعایا کی تائید میں آوانہ اُٹھائی اور ہم اسی طرح کرتے جائیں گے خواہ اس انصاف کی تائید میں ہمیں کتنی ہی تکلیف کیوں نہ اُٹھانی پڑے۔ہمیں سب قوموں کے سلوک یاد ہیں۔کیا ہمیں وہ دن بھول گئے ہیں جب پسر دارد کھڑک سنگھ صاحب نے تقریر کی تھی کہ ہم قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے اور قادیان کے طلبہ کو ر زیاد کر دیں گے۔پھر کیا لیکھرام ہند و ستایا نہیں ؟ وہ لوگ جنہوں نے احراریوں کا ساتھ دیا تھا وہ ہندو تھے یا نہیں ؟ گر ہم بتا دینا چاہتے ہیںکہ جو شخص یا جماعت ندا تعالے کا پیغام لے کر کھڑی ہو ائس کی ساری دنیا دشمن ہوتی ہے۔اس لئے لوگوں کی ہمارے حق کے ساتھ دشمنی ایک طبعی امر ہے ہم نے ملکانہ میں جہاں لاکھوں مسلمانوں کو آریوں نے مرند کر دیا تھا اور شدھ بنا لیا تھا جا کر تبلیغ کی اور انہیں پھر حلقہ بگوش اسلام کیا اور جب وہاں اسلام کو غلبہ نصیب ہو گیا اور آریہ مغلوب ہو گئے تو وہی لوگ ہو ملکانوں کے ارتداد کے وقت شور مچاتے تھے کہ احمدی کہاں گئے اور کہتے تھے وہ اب کیوں تبلیغ نہیں کرتے ، دہی شور مچانے والے ملکانوں کے دوبارہ اسلام لانے پر ان کے گھر گھر گئے اور کہتے پھرے تم آریہ ہو جاؤ مگر مرزائی نہ بنو۔ادھر ہندو ریاستوں نے فلم پر فلم کئے۔الور والوں نے بھی تعلیم کیا اور بھرت پور میں بھی یہی حال ہوا۔جب ہمارے آدمی وہاں جاتے تدراجہ کا حکم پہنچ جاتا کہ تمہاری وجہ سے امن شسکنی ہو رہی ہے جلد از جلد اس علاقے سے نکل جاؤ۔ملکانہ کے ایک گاؤں میں ایک بڑھیا مائی میں شدھ ہونے سے بچی تھی باقی اس کے تین چار بیٹے آریوں نے مرتد کر لئے تھے اور بیٹوں نے اس بڑھیا ماں سے کہا تھا کہ ماں اہم دیکھیں گے کہ اب مولوی ہی آکر تمہار ا فصل کاٹیں گے کسی نے مجھے لکھا کہ ایک بڑھیا کو اس قسم کا طعنہ دیا گیا ہے اور اب اس کی فصل پک کر تیار کھڑی ہے۔میں نے کہا۔اسلام اور احمدیت کی غیرت چاہتی ہے کہ اب مولوی اور تعلیمیافتہ لوگ ہی بجا کر اس بڑھیا کا کھیت کائیں۔چنانچہ میں نے اس کے لئے تحریک کی تو بڑے بڑے تعلیمیافتہ لوگ جن میں بھیج بھی