تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 366
۳۵۵ کیا اس سے بڑھ کر بے دردی کی کوئی مثال ہو سکتی ہے کہ ایک ناکردہ گناہ شخص اور پھر عورت پر اس قسم کے مظالم توڑے جائیں ؟ کیا اس قسم کی حرکات سفا کا نہ نہیں ہیں ؟ ان حالات کی موجودگی میں اگر ہمارے لئے دونوں طرف ہی موت ہے تو ہم ان لوگوں کے حق میں کیوں رائے نہ دیں بعین کا دعوی حق پر ہے۔پھر تیر انقطہ نگاہ یہ ہے کہ اگر ہم ان تمام حالات کی موجودگی میں جو امر پر ذکر ہو چکے ہیں انصاف کی طرفداری کریں گے تو کیا خدا تعالے ہمارے اس فعل کو نہ جانتا ہو گا کہ ہم نے انصاف سے کام لیا ہے۔جب وہ جانتا ہو گا تو وہ خود انصاف پر قائم ہونے والوں کی پشت پناہ ہو گا۔لکھنے والوں نے تو لکھ دیا کہ احمدیوں کے ساتھ وہی سلوک ہوگا جو کابل میں اُن کے ساتھ ہوا تھا مگر میں اُن سے پوچھتا ہوں کہاں ہے امان اللہ بہ اگر اس نے احمدیوں پر ظلم کیا تھا تو کیا خدا تعالے نے اس کے اسی جُرم کی پاداش میں اس کی دھجیاں نہ اُڑا دیں ؟ کیا خدا تعالیٰ نے اس کی حکومت کو تباہ نہ کر دیا ؟ کیا اللہ تعالیٰ نے اس کی حکومت کے تار و پود کو بکھیر کر نہ رکھ دیا؟ کیا اللہ تعالی نے اس کو اس کی ذریت ہمیت ذلیل اور رسوائے عالم نہ کر دیا ؟ کیا خدا تعالیٰ نے مظلوموں پر بے جا ظلم ہوتے دیکھ کر ظالموں کو کیفر کردار تک نہ پہنچایا ؟ اور کیا اللہ تعالیٰ نے امان اللہ کے اس فلم کا اس سے کا انقہ بدلہ نہ لیا ؟ ہاں کیا اللہ تعالیٰ نے اس کی شان و شوکت رُعب اور دبدیہ کو خاک میں نہ ملا دیا ؟ پھر میں ان سے پوچھتا ہوں کہ کیا ہمارا وہ خدا جس نے اس سے بیشتر ہر موقعہ پر ہم پچر ظلم کرنے والوں کو سنہ ائیں دیں کیا تعوذ باللہ اب وہ مر چکا ہے ؟ وہ ہمارا خدا اب بھی زندہ ہے اور اپنی ساری طاقتوں کے ساتھ اب بھی موجود ہے اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ اگر ہم انصاف کا پہلو اختیار کریں گے اور اس کے باوجود ہم پر سلم کیا جائے گا تو وہ ظالموں کا وہی حشر کرے گا جو امان اللہ کا ہوا تھا۔اگر ہم پہلے خدا پر یقین رکھتے تھے تو کیا اب چھوڑ دیں گئے ؟ ہمیں اللہ تالے کی ذات پر کامل یقین ہے۔وہ انصاف کرنے والوں کا ساتھ دیتا ہے اور ظالموں کو سزا دیتا ہے۔وہ اب بھی اسی طرح کرے گا جس طرح اس سے پیشتر وہ ہر موقعہ پر ہماری نصرت اور افات فرماتا رہا۔اس کی پکڑ اس کی گرفت اور اس کی بطش اب بھی شدید ہے جس طرح کہ پہلے شدید