تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 365 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 365

۳۵۴ پس ایک نقطہ نگاہ تو یہ ہے جس سے ہم اس اخبار کے متعلقہ مضمون پر غور کر سکتے ہیں۔دوسرا نقطہ نگاہ یہ ہے کہ بیشک ہمیں مسلمانوں کی طرف سے بھی بعض اوقات تکالیف پہنچ جاتی ہیں اور ہم تسلیم کر لیتے ہیں کہ شاید وہ ہمیں پھانسی پر چڑھا دیں گے لیکن میں بہت دوؤں سے یہ پوچھتا ہوں کہ تم لوگوں نے نہیں کب سکھ دیا تھا۔تم لوگوں نے ہمیں کب آرام پہنچایا اور تم لوگوں نے کب ہمارے ساتھ ہمدردی کی تھی۔کیا بہار میں بے گناہ احمدی مارے گئے یا نہیں ؟ کیا ان لوگوں کی بجائدادیں تم لوگوں نے تباہ کیں یا نہیں ؟ کیا اُن کو بے جا کھ پہنچایا یا نہیں؟ کیا گڑھ مکتیسر میں شیخ محمد یوسف صاحب ایڈیٹر نور کا لڑکا تمہارے مظالم کا شکار ہوا یا نہیں ؟ حالانکہ وہ پہیلتھ آفیسر تھا اور وہ تمہارے میلے میں اس لئے گیا تھا کہ اگر کوئی تم میں سے بیمار ہو جائے تو اس کا علاج کرے۔اگر تم میں سے کسی کو زخم لگ جائے تو اس پر مرہم پٹی کرے اور اگر تم میں سے کوئی بخار سے مر رہا ہو تو اُسے کو تین کھلائے۔وہ ایک ڈاکٹر تھا اور ڈاکٹری ایک ایسا پیشہ ہے جس کو فرقہ دارانہ حیثیت نہیں دی جا سکتی۔وہ بیچارا تمہارے علاج معالجہ کے لئے گیا تھا اس کو تم نے کیوں قتل کر دیا ؟ کیا اس سے بڑھ کر بھی شقاوت قلبی کی کوئی اور مثال ہو سکتی ہے ؟ کیا اسے آگے بھی فلم کی کوئی حد ہوں پھر اس کی بیوی نے خود مجھے اپنے دردناک مصلحت سائے اس نے بتایا کہ غنڈوں نے اس کے منہ میں مٹی ڈالی۔اس بار مار کرادھ موا کردیا۔اس کے کپڑے اتار لیے اور اسے دریا میں پھینک دیا اور پھر اسی پر لیں نہ کی بلکہ دریا میں پھینک کر سوٹیوں کے ساتھ دیاتے رہے تاکہ اس کے مرنے میں کوئی کسر نہ رہ جائے۔یہ اس کی خوش قسمتی تھی کہ وہ تیزا جانتی تھی اور وہ ہمت کر کے ہاتھ پاؤں مارکر دریا سے نکل آئی اور پھر کسی کی مد سے ہسپتال پہنچی مه مورخ پاکستان سید رئیس احمد جعفری نے اپنی کتاب قائد اعظم اوران کا عہد میں اس درد انگیز واقعہ کا ذکر مندرجہ ذیل الفاظ میں کیا ہے۔ڈاکٹر ہارون الرشید جومی جو محکمہ صحت کے انچارج تھے بے دردی سے قتل کر دیئے گئے۔ان کی اہلیہ محترمہ کے کپڑے اتار دیئے گئے اور مجمع میں سے کسی ایک شخص کو بہ حیثیت شوہ منتخب کر لینے کا حکم دیا گیا۔انہوں نے انکار کیا تو انہیں مارتے مارتے ادھ موا کر دیا گیا۔یہ واقعہ دریا کے کنارے پیش آیا تھا۔ان کی سمجھ میں کچھ اور تو نہ آیا۔وہ دریا میں کود پڑیں اور نیم بے ہوش حالت میں بہت دور بھا نکلیں ایک آدمی نے انہیں دیکھ لیا۔وہ ان کی بہتی ہوئی لاش کو گھسیٹتا ہوا کنارے لایا۔کچھ رمق زندگی کی باقی تھی۔علاج معالجہ سے اچھی ہو گئیں۔اب اپنے وطن لاہور میں میں گڑھے مکتیسر کے شہیدوں کی لیے گور و کفن لاشیں کئی دن تک شارع عام میں پڑی سڑتی رہیں۔کوئی ان کی نماز پڑھنے والا، انہیں دفن کرنے والا بھی نہ تھا۔آہ بنا گردنده خوش اسے بخاک و خون غلطیدان خدا رحمت کند این عاشقان پاک طینت را " صفحه ۷۵-۷۵۵)