تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 354 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 354

کرام ۳ رہا کہ بر طانوی وزیر اعظم کے اعلان کے بعد میرے لئے اور کوئی رستہ کھلا نہیں رہا۔کھانے کے بعد جناب ملک صاحب گورنر صاحب سے ملنے کے لئے تشریف لے گئے۔اور اپنا استعفی پیش کر دیا اور ساتھ ہی گورنر صاحب کو مشورہ دیا کہ جناب نواب صاحب ممدوٹ کو بحیثیت قائد مسلم لیگ پارٹی دعوت دی جائے کہ وہ نئی وزارت کی تشکیل کریں۔جناب ملک صاحب کے استعفار کا اعلان ریڈیو پر ہو گیا مسلم لیگ معلقوں میں اس خبر سے نوشی کی ایک لہر دوڑ گئی اور صبح ہوتے ہی شہر بھر میں خضر حیات زندہ باد کے نعرے بلند ہونے لگے۔جناب راجہ غضنفر علی صاحب اور جناب سردار شوکت حیات خان صاحب کی سرکردگی میں بہت سے مسلم لیگ کے سرکردہ اصحاب جناب ملک صاحب کے بنگلے پر تشریف لائے اور ملک صاحب کو مبارک باد دی ، گلے لگایا اور پھولوں کے ہار پہنائے گئے۔اس کے برعکس غیر مسلم معلقوں میں اس خبر سے بہت بے چینی پھیل گئی اور اُن کی طرف سے مخالفانہ مظاہرے شروع ہو گئے۔یہ رو صوبے بھر میں پھیل گئی اور بعض مقامات پر فرقہ دارانہ افسوسناک وارداتیں بھی ہوئیں۔میں اُسی دن دتی واپس چلا گیا۔صوبائی مسلم لیگ قیادت کی طرف سے جناب ملک صاحب پر زور دیا گیا۔کہ وہ مسلم لیگ پارٹی میں شامل ہو جائیں۔انہوں نے وضاحت سے فرما دیا کہ وہ سیاسیات سے الگ رہتا چاہتے ہیں جس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ کسی ذہن میں بھی یہ غلط اندازہ کیا جائے کہ انہیں وزارت یا کسی سیاسی اعزاز یا منصب کی خواہش ہے مسلم لیگ پارٹی کے متعلق انہوں نے اپنی نیک خواہی کا ثبوت کیوں دے دیا کہ انہوں نے جناب منواب مظفر علی خاں صاحب قزلباش کو مشورہ دیا کہ وہ مسلم لیگ پارٹی میں شامل ہو جایں چنانچہ وہ شامل ہو گئے۔جناب ملک سر خضر حیات خان صاحب کا پہلا موقف درست تھا یا غلط ، اس میں کسی شک کی گی داری نہیں کہ اس مرحلے پر ان کا استعفاء دینا ایک نہایت قابل ستائش فعل تھا۔جس کے نتیجے میں صوبہ پنجاب میں مسلم لیگ کا رستہ صاف ہو گیا اور پاکستان کے استحکام کی صورت پیدا ہوگئی۔اگر وہ ایسانہ کرتے تو بہت سی مشکلات کا امکان تھا۔اس کے مقابل پر پاکستان کے قیام کے بعد جناب ملک صاحب کے تھے وہ انصاف اور حسن سلوک روا نہ رکھا گیا جس کا ہر شہری بلا امتیاز حقدار ہے"۔مله خود نوشت سوانح حیات چودھری محمد ظفر اللہ خان صاحب صفحه ۳۸۳ تا ۳۹۰ :