تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 355 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 355

سلام سلام سلام جماعت احمدیہ کی طرف سے خضر وزارت کے استعفا پر صرف چند دن ہی گذرے تھے ، کہ کانگرس ورکنگ کمیٹی نے اپنے اجلاس دہلی (منعقدہ ہم تا به ماریچ تقسیم پنجاب کے نام پر زور احتاج ا مہ) میں یہ قرار داد پاس کی کہ پنجاب کو مسلم اور غیر مسلم پنجا میں تقسیم کر دیا جائے۔ازاں بعد م ا ا پریل کو آل انڈیا ریڈیو سے سرکاری طور پر بھی اعلان ہوگیا کہ ایسی تجویز حکومت کے زیر غور ہے۔حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی المصلح الموعود نے یہ اعلان سنتے ہی وائسرائے ہند کے نام حسب ذیل ایکسپرس تار ارسال کیا :- آل انڈیا ریڈیو میں آج رات (یعنی مورخہ ۱۵ اراپریل سے قبل کی رات) اعلان ہوا ہے کہ پنجاب کو تین حصوں میں تقسیم کر دینے کی تجویز زیر غور ہے۔میں اور میری جماعت تقسیم پنجاب کی تجویز کے خلاف پر زور احتجاج کرتے ہیں اور خصوصاً اس تجویز کے مضلات کہ وسطی پنجاب کو مغربی پنجاب سے علیحدہ کر دیا جائے۔ہم مسلمان پنجاب کے وسطی حصوں میں کامل اکثریت رکھتے ہیں اور ہمیں ایسے ہی انسانی حقوق حاصل ہیں جو دنیا کے کسی حصے میں کسی قوم کو حاصل ہو سکتے ہیں۔یقیناً ہمارے ساتھ تجارتی اموال کا سا سلوک نہیں ہونا چاہیئے " " لیکن افسوس جلد ہی ہندوؤں اور سکھوں کی طرف سے تقسیم پنجاب کا مطالبہ اس درجہ زور پکڑ گیا کہ اسے قریباً نا گزیر خیال کیا جانے لگا۔جس پر شروع مئی کہ میں ناظر علی قادیان کی طرف سے قائد اعظم جناب محمد علی جناح صدر آل انڈیا مسلم لیگ کے نام مندرجہ ذیل تار بھجوایا گیا۔جماعت احمدیہ پنجاب کی تقسیم کے خلاف ہے لیکن اگر یہ تقسیم ناگزیر ہو تو ہماری رائے میں اُسے تین اصولی شرطوں کے ساتھ مشروط کرنا ضروری ہے۔اقول تمام اُن علاقوں کو اسلامی علاقہ میں شامل کیا جاوے جہاں آبادی کے تناسب کے لحاظ له الفضل ، ارامان ماری کہ میں صفحہ ہ کالم او یا د ر ہے قبل ازیں پنڈت جواہر لال نہرو بھیٹی میں اور نومبر شوید کو ایک تقریر کے دوران کہہ چکے تھے کہ " سوال یہ ہے کہ اگر غیرمسلم پاکستان میں رہنے سے انکار کریں تو مسٹر جناح کیا کریں گے۔ان لوگوں کو پاکستان میں رکھنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہو سکتا ہے اور وہ ہے دباؤ کا یا پاکستانی صوبوں کے حصے بخرے کرنے سے ہی ہو سکتا ہے۔کیا مسٹر جناح بنگال اور پنجاب کے حصے بخرے کرنے کے لئے تیار ہیں۔انہوں نے چیلنج کیا کہ بنگال اور پنجاب منقسم نہیں ہو سکتے کیونکہ دونوں ہیں ایک تمدنی ایکتا ہے (پستاپ ۱۳ نومبر و صفحه ۳ ) له الفضل کے ار شہادت اپریل همین صفحه ۲ :