تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 353
ام اس نہیں دینا چاہیئے۔کل کیا ہو گا یا ایک نہینہ بعد کیا ہوگا ، یہ وقت آنے پر دیکھا جائے گا۔پھر ایک اور امر بھی قابل غور ہے۔اگر آپ آج یہ فیصلہ کریں۔بجٹ پاس کرنے کے بعد استعفاء دیں گے تو یہ خلاف دیانت ہے۔بجٹ آپ پارٹی کی مدد سے پاس کریں گے۔اس وقت تو آپ انہیں بتائیں گے نہیں کہ آپ نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ بجٹ پاس کرتے کے بعد استعفا دے دیں گے۔اگر اس وقت آپ انہیں بتائیں گے تو ابھی سے پارٹی منتشر ہو جائے گی اور خود ہی آپ کا استعفاء ہو جائے گا۔اور اگر اس وقت نہیں بتائیں گے اور ان کی مدد سے بجٹ پاس کرنے کے بعد اُن کی خلاف مرضی استعفا دے دیں گے تو گویا آپ نے اُن سے قریب کیا کہ ان کی مدد سے بجٹ پاس کر لیا اور پھر ان کی خلافت مرمضی استعفاء دے دیا۔اس لئے میری تو یہی رائے ہے کہ اس وقت حضر یہ طے ہونا چاہیئے کہ اس مرحلے پر آپ استعفاء دیں یا نہ دیں۔میں اپنی رائے بنا چکا ہوں کہ آپ کو استعفا دینا چاہئیے۔آگے جیسے آپ مناسب سمجھیں۔اس کے بعد جناب نواب مظفر علی خاں صاحب چند منٹ ٹھہر کر تشریف لے گئے۔جناب ملک صاحب نے اسی سہ پہر کے لئے پارٹی کا اجلاس اپنے دولتکدے پر طلب فرمایا اور خود گورنر صاحب ( ۴۱۹ EVANS JEN-KINS ) کو ملنے تشریف لے گئے۔گورنر سے کہا۔وزیر اعظم اٹلی کے اعلان کے پیش نظر میں سوچ بچار کے بعد اس رائے کی طرف مائل ہوں کہ مجھے اس مرحلے پر استعفاء دے دینا چاہئیے لیکن پختہ فیصلہ کرنے سے پہلے میں نے آج سہ پہر پارٹی کا اجلاس طلب کیا ہے۔اگر پارٹی کے ساتھ گفتگو کے بعد میں اس رائے پر قائم رہا تو یوں آج شام پھر آپ سے ملنے کے لئے آؤں گا اور اپنے فیصلے سے آپ کو مطلع کر دوں گا۔گورنر صاحب نے فرمایا۔یہ امر خالصہ آپ کی مرضی پر موقوف ہے۔حالات کے پیش نظر میں آپ کی رائے پر کوئی اثر ڈالنا نہیں چاہتا۔لیکن کیا میں یہ پوچھ سکتا ہوں کہ آپ نے خود بخود یہ رائے قائم کی ہے یا کسی طرفت سے آپ کو کوئی تحریک ہوئی ہے۔اس پر ملک صاحب نے فرمایا کہ فیصلہ تو میرا جو کچھ ہوگا اپنا ہی ہوگا لیکن وزیر اعظم اٹلی کے اعلان کے نتیجے میں توجہ مجھے ظفر اللہ خان نے دلائی ہے۔پارٹی کا اجلاس تین بجے سہ پہر سے چھ سات بجے تک رہا۔میں تو اس میں شامل نہیں تھا۔لیکن میرے کمرے تک بعض دفعہ آواز پہنچتی تھی جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ بحث گرم ہو رہی ہے۔شام کے کھانے پر مجناب طلب صاحب نے بتایا کہ پارٹی کے غیر مسلم اراکین میرے فیصلے پر بہت آزردہ تھے اور اپنے اپنے زاویہ نگاہ سے مجھے سمجھانے کی کوشش کرتے رہے کہ میرا مجوزہ اقدام درست نہیں۔لیکن میرا موقف یہی