تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 352
۳۲۱ چاہتا ہوں۔تم ایک دن کے لئے لاہور آ جاؤ۔میں نے گذارش کی، میں انشاء اللہ آج رات روانہ ہو کر گل صبح حاضر خدمت ہو جاؤں گا۔میرے حاضر ہونے پر جناب ملک صاحب نے فرمایا۔جیسے میں نے ٹیلیفون پر تم سے کہا تھا۔مجھے اصولا تمہارے ساتھ اتفاق ہے لیکن میں تمہاری یہاں موجودگی میں بھائی اللہ بخش (نواب سر اللہ بخش خاں ٹوانہ کے ساتھ مشورہ کرنا چاہتا ہوں۔اور پھر مظفر ( نواب سر مظفر علی قزلباش سے بھی مشورہ کرنا چاہتا ہوں۔مظفر نے ہر مرحلے پر میرا ساتھ دیا ہے۔میں بغیر ان دو کے مشورہ کے کوئی پختہ فیصلہ نہیں کر سکتا۔جناب نواب سر اللہ بخش خان صاحب تو جناب ملک صاحب کے بنگلے کے باغ میں خیمے میں فروکش تھے۔ہم دونوں ان کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔ملک صاحب نے فرمایا۔بھائی جان ! میں نے ظفر اللہ خان کی چھٹی کل آپ کو پڑھ کر سنادی تھی۔اب آپ فرمائیں۔آپ کی کیا رائے ہے ؟ جناب نواب صاحب نے فرمایا۔میں نے کل بھی کہا تھا اور آج بھی کہتا ہوں کہ مجھے ظفر اللہ خان کے ساتھ اتفاق ہے۔اس مرحلے پر صحیح طریق یہی ہے کہ تم اس ذمہ داری سے سبکدوش ہو جاؤ۔چند منٹ کی گفتگو کے بعد وہیں سے جناب ملک صاحب نے جناب نواب سر مظفر علیخاں صاحب کے ہاں ٹیلیفون کیا تو معلوم ہوا نواب صاحب اسٹیٹ تشریف لے گئے ہیں۔وہاں ٹیلیفون نہیں تھا۔جناب ملک صاحب نے اپنے سائق کو ارشاد فرمایا فورا کار میں بجھا کہ نواب سر منظفر علیخاں صاحب کو اُن کی اسٹیٹ سے لے آؤ بجناب نواب صاحب کی تشریف آوری پر جناب ملک صاحب نے خاکسار کے خط کا ذکر جناب نواب صاحب سے کیا اور ان کی رائے دو فریت کی۔اس پر انہوں نے فرمایا۔ہم مسلم لیگ کی تحریک عدم تعاون کو نا کام کر چکے ہیں مجلس میں ہماری پوزیشن مضبوط ہے۔بجٹ کا اجلاس چند دنوں میں شروع ہونے والا ہے۔اس بات سے تو تجھے اتفاق ہے کہ ہمیں حکومت سے دست بردار ہو جانا چاہیئے لیکن میری رائے یہ ہے کہ بجٹ پاس کرنے کے بعد استعفاء دینا چاہئیے۔یہ سنتے ہی جناب نواب اللہ بخش صاحب نے فرمایا۔یہ بات بالکل غلط ہے مشورہ طلب امر یہ نہیں کہ استعفاء کب دیا جائے مشورہ طلب امر یہ ہے کہ اس وقت استعفار دیا جائے یا نہیں۔فیصلہ یہ ہونا چاہیے استعفاء دیا جائے یا پھر یہ ہونا چاہیئے استعفاء نہ دیا جائے۔یہ کوئی فیصلہ نہیں آج سے ڈیڑھ ماہ یا دو ماہ بعد استعفار دیا جائے۔آپ کیا کہ سکتے ہیں اس درمیانی عرصے میں کیا واقعات ہوں اور کیا مراحل پیش آئیں اور کن حالات کا آپ کو سامنا ہو۔اگر اس وقت استعفار نہیں ہونا چاہیئے تو لیس اسی پر اکتفا کرو، استفار