تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 351 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 351

۳۴۰ پہلو یہ تھا کہ پنجاب کے صوبے میں مرکزی اختیارات بھی صوبائی حکومت کو تفویض ہوں۔اس وقت تک یونینسٹ پارٹی میں رکنیت کی کثرت غیر مسلم اراکین کو حاصل ہو چکی تھی۔اگر اب بھی یہی پارٹی برسر اقتدار رہتی تو مسلم لیگ کے رستے میں اور پاکستان کے قیام کے رستے میں ایک بہت بڑی روک پیدا ہو جاتی۔یکن جناب ملک سر خضر حیات خاں صاحب کو عرصے سے جانتا تھا اور میرے اُن کے درمیان دوستانہ مراسم تھے جب تک میں حکومت ہند کا رکن رہا مجھے گرمیوں کے موسم میں جناب ملک صاحب کے ساتھ شملے میں ملاقات کے مواقع میسر آتے رہتے تھے جب میں حکومت سے علیحدہ ہو کر عدالت میں پہلا گیا تو ہمارے طلاقات کے مواقع کم ہو گئے اور میں نے سیاسی سرگرمیوں میں براہ راست حصہ لینا کم کر دیا۔گو قومی معاملات میں میری دلچسپی میں کوئی کمی نہ آئی۔اب اس مرحلے پر بڑی شدت سے میری طبیعت اس طرف مائل ہوئی کہ مجھے جناب ملک صاحب کی خدمت میں گزارش کرنا چاہئیے کہ اب وہ صورت نہیں رہی کہ پاکستان کے مطالبے کا تعلق مرکزی حکومت کے ساتھ ہے اور صوبائی حکومتیں اس سے الگ ہیں کیونکہ وزیر اعظم اٹلی کے اعلان کے بعد صوبائی حکومتیں لان ما اس کشمکش میں کھینچ لی جائیں گی اور مسلم لیگ اور پاکستان کے لئے یہ امر بہت کمزوری کا باعث ہوگا کہ پنجاب میں اختیارات حکومت ایک ایسی پارٹی کے ہاتھ میں ہوں جس کی اکثریت غیر مسلم ہے۔ساتھ ہی مجھے کچھ چھاپ بھی تھا کہ میں سیاسیات سے باہر ہوتے ہوئے اور پنجاب کے تفصیلی حالات سے واقفیت نہ رکھتے ہوئے جناب ملک صاحب کی خدمت میں کوئی ایسی گزارش کروں جیسے وہ بیجا جسارت شمار کرتے ہوئے قابل التفات شمار نہ کریں۔ادھر ہر لحظہ جوں جوگی میں وزیر اعظم برطانیہ کے اعلان پر غور کرتا میری پریشانی میں اضافہ ہوتا۔دو دن اور راتیں میں نے اسی کشمکش میں گزاریں۔مجھے بہت کم کبھی ایسا اتفاق ہوا ہے کہ ہمیں رات آرام سے نہ سو سکوں۔لیکن یہ دونوں راتیں میری بہت بے چینی کی نذر ہوئیں۔آخر میں نے تمیری صبح جناب ملک صاحب کی خدمت میں عریضہ لکھا اور انہیں اُن کی ذمہ داری کی طرف توجہ دلاتے ہوئے گزارش کی کہ انہیں اس مرحلے پر وزارت سے استعفاء دے کر مسلم لیگ کا رستہ پنجاب میں صاف کر دینا چاہیے اور اپنی ذمہ داری سے سرخرو ہو جانا چاہئیے۔اس عریضیہ کے ارسال کرنے کے تیسرے دن جناب ملک صاحب نے ٹیلیفون پر مجھے فرمایا تمہارا اخط مجھے مل گیا ہے۔میں ٹیلیفون پر مختصر بات ہی کر سکتا ہوں۔مجھے اصولاً تمہارے ساتھ اتفاق ہے۔لیکن میں مزید مشورہ کرنا