تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 349
٣٣٨ تو آپ نے جماعت احمدیہ کی اس کوشش کا بہت شکریہ ادا کیا اور فرمایا کہ آپ نے نہایت آڑے وقت ہماری مدد کی ہے اور کہا " never forget it۔" cam و " یعنی میں اسے کبھی فراموش نہیں کر سکتا ہے۔ملک خضر حیات کے استعفاء کا پس منظر چودھری محمد ظفراللہ خان صاحب اپنی غیر مطبوعہ خود نوشت سوانح حیات میں ملک خضر حیات کے چودھری محمد خلف الشر خاص محب کے تسلم سے استغفار کے پیس تقریر پانی ڈالتے ہوئے اپنے منظر قلم سے تحریر فرماتے ہیں کہ وزیر اعظم انٹیلی نے اپنے ۲۰ فروری ان کے بیان میں اعلان فرمایا کہ تقسیم ملک کے بغیر جاں نہیں۔اور یہ کہ ملک معظم کی حکومت ہندوستان کے نظم و نسق کے اختیارات ہندوستان کو سپرد کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔اس پر عملدرآمد کا طریق یہ ہوگا کہ حکومت کے اختیارات صوبائی حکومتوں یا کسی متوازی ادارے کے سپرد کر دیئے جائیں گے۔اور اس طور پر تقسیم کی کارروائی کی تکمیل کی جائے گی۔جہاں اس بیان سے مجھے یہ اطمینان تو ہوا کہ آخر حکومت برطانیہ نے قیام پاکستان کو تسلیم کر لیا وہاں مجھے اس اعلان کے اس حصے سے سخت پریشانی بھی لاحق ہوئی کہ حکومت کے اختیارات عبوری مربعلے میں صوبائی حکومتوں کو تفویض کئے جانے کا امکان ہے جب جناب قائد اعظم نے برطانوی وفد کے منصوبے کو منظور فرما لیا تھا اس وقت ان کے اس فیصلے سے میرا حوصلہ بہت بڑھ گیا تھا کہ وہ میرے انداز سے سے بھی بڑھ کر صاحب نذیر ثابت ہوئے۔میری نگاہ میں برطانوی وفد کے منصوبے کا ایک قابل قدر پہلو یہ تھا کہ پہلے دسن سال میں اکثریت کو موقعہ دیا گیا تھا کہ وہ اپنے منصفانہ رویے اور حسن سلوک کے ذریعے اقلیتوں کا اعتماد اور حاصل کریں کہ آزاد ہندوستان میں اُن کے بھائی حقوق کی مناسب نگہداشت ہوگی اور ان کے بعد بات احساسات کا احترام ہوگا۔ہر چند کہ سابقہ تجربہ کچھ ایسا امید افزا نہیں تھا پھر بھی جناب قائد اعظم کا اس منصوبے کو عملاً آنہ مانے پر تیار ہو جانا اس بات کا ثبوت تھا کہ اُن کا موقف کسی قسم کی چند پر مبنی نہیں تھا۔ے قیلم پاکستان اور جماعت احمدیه صفحه ۵۰ ۱ از تقریر علامہ مولانا جلال الدین صاحب شمس سابق امام مسجد لندن ناشه مهم نشر و اشاعت نظارت دعوة و تبلیغ صدر انجین احمدیه ریوه به