تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 348
۳۷ آئے اور آپ نے یونینسٹ حکومت کے وزیر اعظم ملک خضر حیات خاں ٹوانہ کو گیا تھا میں انہیں مخلصانہ مشورہ دیا کہ موجودہ مرحلے پر انہیں وزارت سے استعفاء دے کر مسلم لیگ اور پاکستان کے لئے رستہ صاف کر دینا چاہیے۔بعد ازاں چو ہدری صاحب موصوف ملک صاحب کی دعوت پر تنفس نفیس لاہور تشریف لائے اور اُن سے ملاقات کی نتیجہ یہ ہوا کہ وہ آپ کی تحریک پر ۲ مارچ ۱۹ شہر کو اپنے عہدہ سے مستعفی ہو گئے اور اگلے روزہ ہور کے اخبارات میں یہ اطلاع شائع بھی ہو گئی کہ گذشتہ چند روز سے آنریل سر محمد ظفر اللہ خانصاحب لاہور تشریف لائے ہوئے ہیں۔آپ نے خضر حیات خاں صاحب سے متعدد ملاقاتیں فرمائیں اور ان پر برطانوی حکومت کے تازہ اعلان کی آئینی اہمیت واضح فرمائی موجودہ وزارتی تبدیلی میں آپ نے بہت نمایاں حصہ لیا ہے۔اس سے واضح الفاظ میں اخبار" ٹریبیون نے اپنی ھر مارچ ۱۹۴۷ء کی اشاعت میں یہ خبر دی کہ معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ خضر حیات خان صاحب نے یہ فیصلہ سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب کے مشورہ اور ہدایت کے مطابق کیا ہے “ له at اخبار کاپ (مورخہ ۲۰ فروری انا نے لکھا :- یہ ایک واضح بات ہے کہ چودھری ظفراللہ خاں نے خضر حیات کو مجبور کر کے اس سے استعفاء دلایا۔خضر حیات کا استعفار مسلم لیگ کی وزارت بننے کا پیش خیمہ تھا اگر شفہ حیات کی وزارت نہ ہوتی تو آج پنجاب کی یہ حالت نہ ہوتی " سے مسلمانوں نے خضر حیات کے استعفا پرکیشین مسترکت منایا قائد اعظم کا بئی سے بیان اور شکریہ ا قائد اعظم محمد علی جناح نے بمبئی سے بیان جاری کیا - مجھے آج صبح یہ سن کر خوشی ہوئی ہے کہ ملک خضر حیات خال نے اپنا اور اپنے کابینہ کا استعفیٰ داخل کر دیا ہے۔ان کا یہ فیصلہ دانشورانہ ہے اور مجھے توقع ہے کہ ڈاکٹر خاں صاحب (وزیر اعظم سرحد ناقل) اس نیک مثال کی تقلید کریں گئے اس کے بعد جب ناظر اور خارجہ حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب درد قائد اعظم کی خدمت میں حاضر ہوئے ال " تفضل" هر امان ماریچ ش صفحه کے ریش ے حوالہ " الفصل " ۴ نیوت / نومبر + A + جواله الفضل" در امان مادرش صفر / بیش ۸ +