تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 340 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 340

۳۲۹ نے اس کو تسلیم کر لیا اور اس پر دستخط بھی کر دیئے لیکن جب دستخط ہو چکے تو پنڈت نہرو صاحب نے کہہ دیا کہ ہم گاندھی جی کی بات ماننے کے لئے تیار نہیں۔اس طرح وہ بات جو گاندھی جی نے کہی تھی پوری ہوگئی کہ ہمیں تو صرف گاندھی ہوں۔میری بات کون مانتا ہے۔چنانچہ پنڈت نہرو صاب نے یہی کہا کہ اس معاملہ میں گاندھی جی سے مہارا کیا تعلق۔یہ گاندھی جی کا اپنا فیصلہ ہے، ہمارا فیصلہ نہیں۔میرے نزدیک گاندھی جی نے محض بات کو ٹلانے کی کوشش کی تھی۔اور ان کا مطلب یہ تھا کہ میں اس تحریک میں حصہ لینا ضروری نہیں سمجھتا۔حالانکہ میں وہاں محض ہندوؤں اور مسلمانوں کی خیر خواہی کے لئے گیا تھا۔ورنہ وزارتوں میں ہمارا کوئی حصہ نہیں۔کانسٹی ٹیوٹ اسمبلی میں ہمارا کوئی حصہ نہیں۔پس میں وہاں اپنے لئے نہیں گیا تھا۔بلکہ اس لئے گیا تھا کہ وہ ہزاروں ہزار ہندو جو مختلف علاقوں میں مارا جا رہا ہے، ان کی بیان بھی جائے۔وہ ہزاروں ہزار مسلمان جو مختلف علاقوں میں مارا جا رہا ہے ، ان کی جان بچ جائے۔نہ وہ میرے رشتہ دار ہیں نہ واقف ہیں نہ دوست ہیں۔کوئی بھی تو ان کا میرے ساتھ تعلق نہیں سوائے اس تعلق کے کہ میرے پیدا کرنے والے خدا نے ان کو بھی پیدا کیا ہے۔اور میرا فرض ہے کہ میں اُن کی جانوں کی حفاظت کروں۔صرف اس دُکھ اور درد کی وجہ سے میں نے ان کوششوں میں حصہ لیا۔مگر مجھے افسوس ہے کہ گاندھی جی نے میرے اخلاص کی قدر نہ کی اور انہوں نے کہ دیا کہ میری بات کون مانتا ہے، میں تو صرف گاندھی ہوں۔انہوں نے یہ فقرہ محض ٹالنے کے لئے کہا تھا۔مگر خدا تعالیٰ نے واقع میں ایسا کر دکھایا اور پنڈت نہرو صاحب نے گفتگو کرنے والو سے صاف کہہ دیا کہ یہ ہمارا فیصلہ نہیں۔گاندھی جی کا فیصلہ ہے اور ہم گاندھی جی کا یہ فیصلہ ماننے کو تیار نہیں۔جب حالات یہ رنگ اختیار کر گئے تو مسٹر جناح نے نہایت ہوشیاری اور عقلمندی سے کام لیتے ہوئے وائسرائے کو لکھ دیا کہ کانگرس سے تو ہمارا فیصلہ نہیں ہو سکا لیکن ہم آپ کی پیشکش کو قبول کرتے ہوئے حکومت میں شامل ہوتے ہیں۔اس طرح کام بھی ہو گیا اور بات بھی بن گئی اور مسٹر گاندھی اس معاملہ میں عالی گاندھی بن کے رہ گئے اور اللہ تعالیٰ نے بہادری غرض بھی پوری کر دی۔خدا تعالے کی قدرت کہ ہمارا دہلی سے جمعہ کو پھلنے کا ارادہ تھا اور ہم