تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 339 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 339

۳۲۸ کہ یہ مٹی کا بورا اس مسلمان افسر کے سر پر رکھ دو۔اس صحابی نے جب یہ دیکھا تو اس نے نہایت خاموشی سے اپنا مرجھکایا اور مٹی کا بورا اپنے سر پہ اُٹھا لیا۔بادشاہ نے اُسے کہا۔اب بھاؤ۔اس کے سوا تمہیں اور کچھ نہیں مل سکتا۔گویا جیسے پنجابی میں کہتے ہیں۔کھیر کھاؤ (اردو میں یوں کہہ لو کہ تمہارے سر پر خاک) ویسا ہی اس بادشاہ نے کہا اور مٹی کا بورا مسلمان افسر کے سر پر لادتے ہوئے کہا۔جاؤ اس کے سوا تمہیں اور کچھ نہیں مل سکتا۔ایسے موقعہ پر اللہ تعالیٰ مومن کو بھی اپنے فضل سے ایک نور اور روشنی بخش دیتا ہے جب اس نے مٹی کا بورا مسلمان افسر کے سر پر رکھوایا تو انہوں نے فوراً اس کو نیک تفاول پر محمول کرتے ہوئے اُٹھا لیا اور اپنے ساتھیوں کو یہ کہتے ہوئے دربار سے نکل بھاگے کہ آجاؤ ، ایران کے بادشاہ نے خود اپنے ہاتھ سے ایران کی زمین ہمیں سونپ دی ہے۔مشرک بزدل بھی بڑا ہوتا ہے۔جب انہوں نے بلند آوانہ سے یہ فقرہ کہا تو اس نے گھبرا کر اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ یہ شخص کیا کہہ رہا ہے۔انہوں نے کہا۔اس نے کہا ہے کسری نے ایران کی زمین خود اپنے ہاتھ سے ہمارے سپرد کر دی ہے یہ سن کر بادشاہ گھبرا گیا اور اس نے کہا۔جلدی بھاؤ اور اس شخص کو پکڑ کر حاضر کرو۔مگر اتنے میں مسلمان گھوڑوں پر سوار ہو کر کہیں کے کہیں بھا چکے تھے۔گاندھی جی نے بھی کہا کہ میں تو کچھ نہیں کر سکتا جو کچھ کر سکتے ہیں آپ ہی کر سکتے ہیں۔اور خدا تعالیٰ نے ایسا ہی کر دیا۔اور میرے وہاں ہونے کی وجہ سے ہی جھگڑے کا تصفیہ ہوا۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ تصفیہ مکیں نے کیا۔گو کوششیں ہم برابر کر رہے تھے۔مگر سوال یہ ہے کہ پہلے چار پانچ دفعہ صلح کی کوشش ہو چکی تھی۔گورنمنٹ نے بھی زور لگایا۔مگر اس معاملہ کا کوئی تصفیہ نہ ہوا۔آخر میرے وہاں ہونے اور دعائیں کرنے سے نہ معلوم کونسے دلوں کی گنجیاں کھول دی گئیں کہ میرے وہاں جانے سے وہ کام جو پہلے بار بار کی کوششوں کے باوجود نہیں ہوا تھا ، ہو گیا اور گاندھی جی کا یہ فقره درست ثابت ہوا کہ میں تو یہ کام نہیں کر سکتا آپ ہی کر سکتے ہیں۔عجیب بات یہ ہے کہ جس نقطہ پر لڑائی تھی گاندھی جی نے اُسے تسلیم کر لیا تھا اور بالکل ممکن تھا کہ اگر گاندھی جی کی بات مانی جاتی تو آپس میں صلح ہو بھاتی۔چنانچہ جب گاندھی جی سے نواب سے سب جو پال نے طلاقات کی اور یہ فارمولا پیش کیا کہ لیگ کو مسلمانوں کا نمائندہ سمجھا بھائے گا تو گاندھی جی