تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 336 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 336

۳۲۵ ہیں کہ اس کا ان باتوں سے کوئی اشتراک اور تعلق ہے۔اس پر میں نے سوچا کہ چونکہ دلی میں فیصلے ہو رہے ہیں۔مجھے بھی دتی پھلنا چاہئیے۔دوسرا فائدہ اس کا یہ بھی ہوگا کہ دلی میں ہمیں تازہ بتازہ خبریں ملتی رہیں گی اور اگر حالات بگڑتے معلوم ہوئے تو ہم فوراً دعا کر سکیں گے۔قادیان میں تو ممکن ہے ہمیں ایسے وقت میں خبر ملے جب واقعات گزرچکے ہوں اور دھا کرنے کا کوئی فائدہ نہ ہو کیونکہ دعا ماضی کے لئے نہیں ہوتی مستقبل کے لئے ہوتی ہے۔نیز مجھے یہ بھی خیال آیا کہ بعض اور بار روتے لوگوں کو بھی اس تحریک میں شامل کرنا چاہیے جیسے سر تغافاں میں گو سر آفات اب ہندوستان میں نہیں تھے مگر میں نے سمجھا کہ چونکہ ان کی جماعت بھی مسلمان کہلاتی ہے، اگر اُن کو بھی شریک ہونے کا موقعہ مل بھائے تو گورنمنٹ پر یہ امر واضح ہو جائے گا کہ مسلمانوں کی ایک اور جماعت بھی ایسی ہے جو اس بارہ میں مسلم لیگ کے ساتھ ہمدردی رکھتی ہے۔چنانچہ لندن مشتری کی معرفت میں نے سر آغا خاں کو بھی تارہ بھجوا دیا۔اس دوران میں میں نے قادیان سے اپنے بعض نمائندے اس غرض کے لئے بھیجوائے کہ وہ نواب صاحب چھتاری سے تفصیلی گفتگو کر لیں اور انہیں ہدایت کی کہ وہ لیگ کے نمائندوں سے بھی میں اور اُن پر یہ امر واضح کر دیں کہ ہم یہ نہیں چاہتے کہ لیگ کے مقاصد کے خلاف کوئی کام کریں۔اگر یہ تحریک لیگ کے مخالف ہو تو ہمیں بتا دیا بجائے ہم اس کو چھوڑنے کے لئے تیار ہیں۔اور اگر مخالفت نہ ہو تو ہم شروع کر دیں۔اس پر لیگ کے بعض نمائندوں نے تسلیم کیا کہ یہ تحریک ہمارے لئے مفید ہوگی ، الکل با موقعہ ہوگی اور ہم یہ سمجھیں گے کہ اس ذریعہ سے ہاری مدد کی گئی ہے، ہمارے رستہ میں روڑے نہیں آسکائے گئے۔چنانچہ میں دتی پہنچ گیا۔وہاں جو کچھ کام ہوا۔اس کی تفصیلات میں میں اس وقت نہیں جانا چاہتا۔میرا خیال ہے کہ میں ایک کتاب " سفر ولی " پر لکھوں کیونکہ بہت سی باتیں ہیں جو اس سفر کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں اور وہ معدا تعالیٰ کے فضل سے آئندہ کام کے رستے کھولنے والی ہیں۔سر دست میں صرف اس قدر ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ جب میں دلی گیا تو سر آغا خاں کی طرف سے بھی جواب آگیا۔اور وہاں بعض اور لیڈروں سے بھی ملاقاتیں ہوئیں جیسے سرسلطان احمد ہیں۔مسلمانوں میں سے صرف ایک صاحب نے جواب نہیں دیا۔حالانکہ ان کو دو دفعہ تار دیا گیا تھا اور وہ سر محمد عثمان ہیں۔ان کے پچودھری ظفر اللہ خاں صاحب کے ساتھ تعلقات ہیں اور مجھ سے