تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 337
۳۲۶ ملنے کا بھی موقعہ ہوا ہے ممکن ہے وہ اس وہم میں مبتلا رہے ہوں کہ ہمارا کام کہیں لیگ کے لئے مضر نہ ہو لیکن ہم نے لیگ کے نمائندوں سے پہلے مشورہ کر لیا تھا اور ان سے کہہ دیا تھا کہ اگر ہماری یہ کوششیں اُن کے نزدیک مضر ہوں تو ہم ان کے ترک کرنے کے لئے تیار ہیں۔بہر حال جیسا کہ ظاہر ہے ہم نہ لیگ میں شامل تھے نہ کانگرس میں نہ لیگ نے ہمیں اپنا نمائندہ بنایا تھا نہ کانگریس نے۔اس لئے یہ نہیں ہو سکتا تھا کہ انہی کی طرح باقاعدہ ہم بھی مشورہ کی مجالس میں شامل ہوتے۔ہماری جماعت کے لبعض نا واقف دوستوں نے لکھا ہے کہ وائسرائے ، پنڈت جواہر لال نہرو ، مسٹر جناح کے مشورو کا ذکر تو اخباروں میں آتا ہے ، آپ کا کیوں نہیں آتا۔انہوں نے یہ نہیں سمجھا کہ وہ تو ان سیاسی جماعتوں کے نمائندے ہیں جنہوں نے باہمی فیصلہ کرنا تھا۔اور ہم کسی سیاسی جماعت کے نمائندہ نہیں تھے بلکہ ہم اپنا اثر ڈال کر انہیں نیک راہ بتانے کے لئے گئے تھے بسیاسی جماعتوں کی نمائندگی نہ ہمارا کام تھا اور نہ گورنمنٹ یا کوئی اور اس رنگ میں ہمیں بلا سکتا تھا۔نہ۔۔۔۔ہو کوشش صلح کے لئے ہو سکتی تھی وہ میں نے کی۔اور اسی سلسلہ میں میں مسٹر گاندھی سے بھی ملا۔میرا منشار تھا کہ میں ان سے تفصیل سے بات کروں گا اور انہیں بتاؤں گا کہ آپس کا تفرقہ ٹھیک نہیں۔ان کو کوشش کرنی چاہیئے کہ کچھ وہ پھوڑ دیں اور کچھ لینگ چھوڑ دے تاکہ ملک کی بدامنی خطرناک رنگ اختیار نہ کرلے میں نے اُن سے کہا کہ لڑتے آپ ہیں لیکن آپ لوگوں کی جان پر اس کا وبال نہیں بلکہ ان ہزاروں ہزار لوگوں پر ہے جو قصبوں میں رہتے ہیں یا دیہات میں رہتے ہیں اور تہذیب اور شائستگی کو نہیں سمجھتے وہ ایک دوسرے کو ماریں گے ، ایک دوسرے کو ٹوٹیں گے اور ایک دوسرے کے گھروں کو بھلا دیں گے ایسے جھگڑا لیگ اور کانگریس کا تھا لیکن مسجد اور لائیبریری ڈھا کہ میں ہماری جماعت کی میلادی گئی حالانکہ نہ ہم اڑ سے اور نہ ہم بدامنی پیدا کر نا جائز سمجھتے ہیں۔مگر وہاں کے ہندوؤں نے ہماری مسجد اور بہادری لائیبریری کو جلا کر یہ سمجھے یا کہ انہوں نے بڑا تیر مارا ہے اور یہ خیال کر لیا کہ انہوں نے مسلمانوں سے بدلہ لے لیا ہے۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ سیب اس قسم کے اختلافات پیدا ہو جائیں تو انسانی عقل، ماری بھاتی ہے اور سیاہ اور سفید میں فرق کرتا اس کے لئے مشکل ہو جاتا ہے) غرض گاندھی جی پر مکین نے یہ بات واضح کی اور انہیں کہا کہ آپ کو اس بارہ میں کچھ کرنا