تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 319
۳۰۸ انگریز مسلمانوں کو ان کی مرضی کے خلاف بقیہ ہندوستان سے ملا دیں تو وہ بھی ظالم ہوں گے۔کیونکہ مسلمان بھیڑ بکریاں نہیں کہ انگریز جس طرح چاہیں اُن سے سلوک کریں۔پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ اس مشکل کو محبت سے سلجھانے کی کوشش کی جائے۔زور اور خود ساختہ قانون سے نہیں۔لیکن ہندوؤں کو یقین دلاتا ہوں کہ میرا دل ان کے ساتھ ہے ان معنوں میں کہ میں چاہتا ہوں کہ ستند و مسلمانوں میں آزادانہ سمجھوتہ ہو جائے اور یہ سوتیلے بھائی اس ملک میں سگے بن کر رہیں۔۔ئیں اور پر لکھ چکا ہوں کہ میں اس امر کے حق میں ہوں کہ جس طرح ہو ہندوستان کے متحد رکھنے کی کوشش کی بجائے خواہ ہماری جدائی اصلی جدائی نہ ہو بلکہ بھائی اتحاد کا پیش خیمہ ہو۔مگر میں اپنے مہندو بھائیوں سے یہ بھی ضرور کہوں گا کہ غلط دلائل کی حقیقت کو ثابت نہیں کر سکتے بلکہ بہت دفعہ حقیقت کو اور بھی مشتبہ کر دیتے ہیں۔بھلا یہ بھی کوئی دلیل ہے کہ پنجاب سندھ وغیرہ صوبوں کے الگ ہو جانے سے ہندوستان کا ڈیفینس کمزور ہو جائے گا۔کینیڈا کے الگ ہو جانے سے کیا یونائیٹڈ سٹیٹس کا ڈیفنس کمزور ہو گیا ہے ، میکسیکو کی آزادی سے کیا یونائیٹڈ سٹیٹس کا ڈیفنس کمزور ہو گیا ہے ؟ ارجنٹائن کے الگ ہونے سے کیا برازیل کا ڈیفنس کمزور ہو گیا ہے ؟ اگر مسلم منصوبے الگ بھی ہو جائیں تو باقی ہندوستان کا کیا بگڑا سنگتا ہے۔اس وقت بھی ہندوستان کی آبادی روس سے قریباً دوگنی ، یونائیٹڈ سٹیٹس سے قریباً اڑھائی گئی ، سابق جرمنی سے قریباً چار گنی ہوگی اور ملک کی وسعت بھی کافی ہوگی۔ایک طرف تو یہ کہا جاتا ہے کہ مسلم مو بے الگ ہو کو ترقی نہیں کر سکیں گے۔دوسری طرف یہ کہا جاتا ہے کہ ان کے الگ ہو جانے سے ہندوستان اپنی عظمت کھو بیٹھے گا۔اگر ہندوستان کی عظمت اسلامی صوبوں سے ہے تو اُن کے الگ ہونے پر اسلامی صوبوں کو نقصان کیو نکر پہنچے گا۔یہ تو وہی دلیل ہے جو روس اس وقت پولینڈ ، رومانیہ ، بلغاریہ ، ترکی اور ایران کے بعض صوبوں پر قبضہ کرنے کی تائید میں دیتا ہے۔روس اپنی تمام طاقت کے ساتھ تو جرمنی اور اٹلی کے حملہ سے جو تباہ شدہ ملک ہیں نہیں بچا سکتا۔نہ افغانستان اور جنوبی ایران جیسے زبردست ملکوں کے حملوں سے بچ سکتا ہے۔اس کے بچنے کی صرف یہی صورت ہے کہ پولینڈ اور رومانیہ اور بلغاریہ اس کے زیر تصرف ہو بھائیں یا ترکی کے بعض صوبے اور ایران کا شمالی حصہ اُسے مل جائے۔کیا یہ دلیل ہے ؟ کیا ایسی ہی دلیلوں سے ہند وسلمانوں کے دلوں میں اعتبار پیدا کر سکتے ہیں۔میں پھر کہتا ہوں کہ اس نازک موقعہ پر اخلاق پر اپنے دعووں کی بنیاد رکھیں بھلا اس قسم کے دعووں سے کہ مسلم لیگ مسلم رائے کی نمائندہ نہیں کیونکہ اس کے منتخب ممبر جو کو نسلوں