تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 282 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 282

میں یہ خیالات پیدا ہوتے تھے کہ چالیس کروڑ انسانوں کی آزادی کے لئے اگر مسلمان اپنے کچھ اور حق چھوڑ دیں تو کیا ہرج ہے۔لیکن کانگریس کے اس اعلان نے کہ اب وہ مسلم لیگ سے بات نہیں کرے گی بلکہ مسلم افراد سے خطاب کرے گی میرے بعد بات کو بالکل بدل دیا اور میں نے محسوس کیا کہ جو لوگ دروازہ سے داخل ہونے میں ناکام رہے ہیں اب وہ سرنگ لگا کہ داخل ہونا چاہتے ہیں اور اس کے مینے مسلم لیگ کی تباہی نہیں بلکہ مسلم کیر کی اور مسلم قوم کی تباہی ہے۔پس اسی وقت سے میں نے یہ فیصلہ کر لیا کہ جب تک یہ صورت حالات نہ بدلے ہمیں مسلم لیگ یامسلم لیگ کی پالیسی کی تائید کرنی چاہیئے۔گو ہم دل سے پہلے بھی ایسے اکھنڈ ہندوستان ہی کے قائل تھے کیس میں مسلمان کا پاکستان اور ہندو کا ہندوستان برضاء ورغبت شامل ہوں اور اب بھی ہمارا یہی عقیدہ ہے بلکہ سہارا تو یہ عقیدہ ہے کہ ساری دنیا کی ایک حکومت قائم ہوتا باہمی فسادات دور ہوں اور انسانیت بھی اپنے جوہر دکھانے کے قابل ہو۔مگر ہم اس کو آزاد قوموں کی آزاد رائے کے مطابق دیکھنا چاہتے ہیں جبر اور زور سے کمزور کو اپنے ساتھ ملانے سے یہ مقصد نہ دنیا کے بارہ میں کھڑا ہو سکتا ہے اور نہ ہندوستان اس طرح اکھنڈ ہندوستان بن سکتا ہے۔میں نے یہ امور اس لئے بیان کہتے ہیں تا ہماری جماعت اور ہندوستان کی دوسری جماعتیں میری اس رائے کو بخوبی سمجھ سکیں جو میں آئندہ انتخابات کے متعلق دینے والا ہوں بو صورت حالات میں نے اوپر بیان کی ہے اس کو مد نظر رکھتے ہوئے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ آئندہ الیکشنوں میں ہر احمدی کو مسلم لیگ کی پالیسی کی تائید کرنی چاہیے تا انتخابات کے بعد مسلم لیگ بلا خوف تردید کانگریس سے یہ کہ سکے کہ وہ مسلمانوں کی نمائندہ ہے۔اگر ہم اور دوسری مسلمان جماعتیں ایسانہ کریں گی تومسلمانوں کی سیاسی حیثیت کمزور ہو جائے گی اور سہندوستان کے آئندہ نظام میں ان کی آواز بے اثر ثابت ہوگی اور ایسا سیاسی اور اقتصادی دھکا مسلمانوں کو لگے گا کہ اور چالیس پچاس سال تک ان کا سنبھلتا شکل ہو جائے گا۔اور میں نہیں سمجھ سکتا کہ کوئی عقل مند آدمی اس حالت کی ذمہ داری اپنے f پر لینے کو تیار ہو ماہ له الفضل ۲۲ اتحاد کر اکتوبر له مش صفحه : "