تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 283
۲۷۷ حضرت مصلح موعود نے جماعت احمدیہ کو انتخابات کے میدان میں مسلم لیگ کی پرزور حمایت کرنے کا ارشاد فرمانے کے بعد مزید لکھا کہ " میں اس اعلان کے ذریعہ۔۔تمام صوبہ جات کے احمدیوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اپنی۔اپنی جگہ پر پورے زور اور قوت کے ساتھ آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ کی مدد کریں اس طرح کہ (1) جس قدر احمدیوں کے ووٹ ہیں وہ اپنے حلقہ کے مسلم لیگی امیدوار کو دیں۔(۲) میرا تجربہ ہے کہ احمدیوں کی نیکی اور تقویٰ اور سچائی کی وجہ سے بہت سے غیر احمدی بھی ان کے۔کہنے پر دوٹ دیتے ہیں۔پس میری خواہش یہ ہے کہ نہ صرف یہ کہ تمام احمد ہی اپنے ووٹ مسلم لیگ کو دیں بلکہ جو لوگ ان کے زیر اثر ہیں ان کے ووٹ بھی مسلم لیگ کے امیدواروں کو دلائیں۔(۳) ہماری جماعت چونکہ اعلی درجہ کی منظم ہے اور قربانی اور ایثار کا مادہ ان میں پایا بھاتا ہے اور جب وہ عزم سے کام کرتے ہیں تو حیرت انگیز طور پر دلوں کو ہلا دیتے ہیں ، ہر احمد کی سے یہ بھی خواہش کر یا ہوں کہ وہ اپنے حلقہ اثر سے باہر جا کر اپنے علاقہ کے ہر مسلمان کو اس وقت مسلم لیگ کے سبق میں ووٹ دینے کی تلقین کرے اور اس قدر زور لگائے کہ اس کے حلقہ اثر میں مسلم لیگ امیدوار کی کامیابی یقینی ہو جائے۔میں امید کرتا ہوں کہ احمدی جماعت کے تمام افراد کیا مرد اور کیا عورتیں ، مرد مردوں تک پہنچ کر اور عورتیں عورتوں کے پاس جا کر اُن کے خیالات درست کرنے کی کوشش کریں گے۔اور اس امر کو اس قدر ہم سمجھیں گے کہ تمام جگہوں پرمسلم لیگ کے کارکنوں کو یہ محسوس ہو جائے کہ حضور نے پنجاب کے متعلق (جہاں بعض احمدی بھی بطور امیدوار کھڑے ہو رہے تھے، یہ فیصلہ فرمایا کہ یہاں اگر کوئی آدی کھڑا ہونا چاہے تو اُسے چاہیے کہ وہ مسلم لیگ کا ٹکٹ حاصل کرنے کی کوشش کرے اگر وہ ٹکٹ حاصل نہ کرسکے۔اور وہ سمجھے کہ احمدی دورٹ یا اس کی قوم کا ووٹ زیادہ ہے اور اس کا جائز تو دینے سے انکار کیا جا رہا ہے تو اسے اجازت ہے کہ وہ یہ اعلان کر کے مہبری کے لئے کھڑا ہو جائے کہ ہمیں پالیسی کے لحاظ مسلم لیگ سے متفق ہوں مگر مجبوراً آزاد امیدوار کی حیثیت سے کھڑا ہو رہا ہوں ("الفضل " ۲۲ اخاه / اکتوبر ۱۳۲۴ به بیش صفیر به اس موقعہ پر حضرت سیدنا المصلح الموعود نے پنجاب میں مسلم لیگ کو بہانہ ک پیشکش کر دی تھی کہ اگر وه به فیصل قلعی طور پر کر دے کہ مسلم لیگ نہیں احمدی شامل ہو سکتے ہیں اور اسی طرح ان کے حقوق ہوں گے جس طرح دوسرے لوگوں کے ہیں تو آپ سب احمدی امیدواروں کو بٹھا دیں گے۔مگر افسوس انہوں نے نیشنلسٹ مسلمانوں سے ڈر کر اس فیصلہ کی جرات نہ کی گو فرداً فرداً دو درجن سے زیادہ مسلم لیگی نمائندوں نے اور بعض مضلع لیگوں نے جماعت احمدیہ سے مر طلب کی اور جماعت نے ان سے بھر پور تعاون کیا اور وہ خدا کے فضل سے دوٹوں کی بھاری تعداد سے کامیاب ہو گئے "الفضل یکم تبلیغ فروری میش صفوا )