تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 281
۲۰۵ اُن کی تعداد کیا ہے ؟ جہانتک مجھے علم ہے صوبہ بھائی کو نسلوں میں بھی اور مرکزی کو نسلوں میں بھی غیر لیگی ممبروں کی تعداد لیگی ممبروں سے بہت کم ہے۔اور پھر مجیب بات یہ ہے کہ مرکزی کو نسلوں میں غیر لیگی ممبروں کی نسبت صوبہ جیائی انسیت سے بھی کم ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ صوبہ بھائی کو نسلوں میں غیر لیگی ممبروں کی نسبتی زیادتی مقامی مناقشات اور رقابتوں کی وجہ سے ہے۔ورنہ کیا وجہ ہے کہ انہی دوسروں نے صوبہ جات میں ایک پالیسی کے حق میں ووٹ دیئے اور مرکز کے لئے نمائندے بھیجواتے ہوئے دوسری پالیسی کے حق میں ووٹ دیئے۔پھر مثلاً پنجاب ہے۔اس میں یونینسٹ نمبر اصولاً اپنے آپ کو مسلم لیگ کے حق میں قرار دیتے ہیں اور پاکستان کی علی الاعلان تائید کرتے ہیں۔نہیں ہر یونینسٹ ہند و سلم سمجھوتے کے سوال کے لحاظ سے در حقیقت مسلم لیگی ہے بلکہ وہ تو اس امر کا مدعی ہے کہ مجھے ذاتی رنجشوں کی وجہ سے ایک طبقہ نے باہر کر دیا ہے ورنہ میں تو پہلے بھی مسلم لیگی تھا اور اب بھی مسلم لیگی ہوں۔ان حالات میں مصوبہ بجھاتی غیر لیگی نمبروں کی تعداد مسلم لیگی ممبروں کے مقابل پر اور بھی کم ہو جاتی ہے۔غرض جس نقطہ نگاہ سے بھی دیکھیں اس وقت مسلمانان ہند کی اکثریت مسلم لیگ کے حق میں ہے۔کانگرس ، گورنمنٹ اور پبلک ووٹ سب کی شہادت اس بارہ میں موجو ہے۔اور ان حالات میں اگر ہندوستان میں صلح کی پائدار بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔تو مسلم لیگ اور کانگریس کے سمجھوتے سے ہی رکھی جاسکتی ہے، مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ باوجود اس کے شملہ کا نفرنس کی ناکامی سے بددل ہو کر کانگریس نے یہ اعلان کر دیا ہے کہ اب وہ مسلم لیگ سے گفتگو نہیں کرے گی بلکہ براہ راست مسلمانوں کی اکثریت سے خطاب کرے گی۔عام حالات میں تو یہ کوئی معیوب بات نہیں۔اگر کانگرس شروع سے ہی اس نظریہ پر کاربند ہوتی تو کم سے کم میں اسے بالکل حق بجانب سمجھتا۔لیکن اب جبکہ مسلمان ایک متحدہ محاذ قائم کر چکے ہیں کانگریس کا یہ فیصلہ ان لوگوں کے لئے بھی تکلیف دہ ثابت ہوا ہے جو اس وقت بھی کانگرس سے ہمدردی رکھتے تھے۔مجھے کانگرس سے اختلا ہے اور بہت سخت اختلاف ہے۔مگر میں اس امر کا ہمیشہ قائل رہا ہوں کہ ہندو مسلم اتحاد کی بنیاد ہندوؤں کی طرف سے کانگریس کے ذریعہ سے ہی پڑسکے گی اور اس اتحاد کی آرزو میں شملہ کانفرنس کے ایام میں مجھے شکوہ مسلمان نمائندوں سے ہی پیدا ہوتا رہا ہے اور بار بار میرے بول