تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 269
۲۶۳ مصلح موعود کا پیغام استین حضرت مصلح موعود نے جو ہندوستان کی آزادی کے دن کو قریے دیکھنے کے دلی طور پر آرزو مند تھے، دیول تجاویز کو ازحد اہمیت دی کے ہندوستانی لیڈروں نام اور ۲۲ احسان جون پر میش کے خطبہ جمعہ میں نہایت درد دل کے ساتھ ہند داستان کے سیاسی لیڈروں کو پیغام دیا کہ انگلستان ہندوستان کی طرف اپنا صلح کا ہاتھ بڑھا رہا ہے اس بطانوی پیشکش کو قبول کرنا اپنے پر اور اپنی آئندہ نسلوں پر احسان عظیم کرتا ہے۔پچنا نچہ حضور نے ارشاد فرمایا :- ہیں تو سمجھ ہی نہیں سکتا کہ ہندوستانی لیڈر با وجود اس کے کہ ان میں بعض بڑے بڑے سمجھدار اور بڑے بڑے عقلمند ہیں کس طرح اس بات کو نظر انداز کر رہے ہیں کہ انگریزوں کے ہاتھ میں سو فیصدی اختیارات کے ہوتے ہوئے اگر وہ آزادی کی امینہ رکھتے ہیں تو توے فیصدی اختیارات بگردان کے اپنے ہاتھ میں آجائیں تو کیوں وہ آزادی کی امید نہیں رکھ سکتے۔اگر انگریزوں کو دشمن سمجھ لیا جائے تو بھی یہ غور کرنا چا ہیئے کہ اگر کسی دشمن کے پاس سو بندوقیں ہوں لیکن دوسرے شخص کے پاس کوئی ایک بندوق بھی نہ ہو اور اس حالت میں بھی وہ سمجھتا ہو کہ میں اپنے نشیمن کا مقابلہ کر کے جیت جھاؤں گا تو اگر فرض کرو اس کا دشمن اسے کہے کہ تو سے بندوقیں تم مجھ سے لے لو اور دلی میرے پاس رہنے دو تو الہ بحالت میں اگر وہ کہے کہ میں تقسے نہیں لوں گا جب دو گے سو ہی لوں گا تو کیا ایسے شخص کو کوئی بھی عقل مند کہہ سکتا ہے۔یقیناً ہر شخص اُسے نادان اور نا سمجھ ہی قرار دے گا۔اسی طرح خواہ کچھ کہہ لو اس میں کچھ مشیر نہیں کہ ہندوستان کو بو بھی اختیارات میں زیادہ ملیں تب بھی اور کم میں تب بھی وہ اختیارات بہر حال ہندوستان کے لئے مفید اور بابرکت ہوں گے اور وہ ہندوستان کو پہلے کی نسبت آزادی کے زیادہ قریب کر دیں گے۔پس میرے نزدیک ہندوستان کا اس پیشکش کو قبول کرنا انگریزوں سے صلح کرنا نہیں بلکہ اپنے آپ پہ اور اپنی آئندہ آنے والی نسلوں پر احسان عظیم کرتا ہے۔دو سو سال سے ہندوستان غلامی کی زندگی بسر کرتا چلا آیا ہے۔اور یہ ایک ایسی خطرناک بات ہے جو انسانی جسم کو کی کیا دیتی ہے۔بیشک بعض لوگ ایسے اعلیٰ اخلاق کے مالک ہوتے ہیں کہ خواہ انہیں قید خانوں