تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 268
۲۶۲ مساوی نمائندگی دی جائے گی۔اگر یہ عالم وجود میں آگئی تو یہ موجودہ آئین کے ماتحت کام کرے گی۔سوائے وائسرائے اور کمانڈر انچیف کے جو ایک کٹو کونسل کے جنگی ممبران کے طور پر کام کریں گے۔ساری ایگرز کٹو کونسل ہندوستانی ہوگی یہ تجویز بھی منظور کر لی گئی ہے کہ جہاں تک برٹش انڈیا کا تعلق ہے امور خاریہ کا محکمہ جو اس دن تک وائسرائے کے ہاتھ میں رہتا آیا ہے ایگزیکٹو کونسل کے ہندوستانی ممبر کے سپرد کر دیا جائے گا۔ملک معظم کی حکومت نے ایک اور قدم اُٹھانے کا بھی فیصلہ کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ دیگر نو آبادیات کی طرح ہندوستان میں بھی ایک برٹش ہائی کمشنر مقرر کیا جائے گا ہو ہندوستان میں برطانوی تجارتی اور دیگر مفاد کی حفاظت کرے گا۔اگر کو کونسل تقریباً مکمل طور پر ہندوستانی ہوئی۔کیونکہ پہلی بار ہندوستان کا ہوم نمبر اور فنانس مبر دونوں ہندوستانی ہوں گے۔میر اور ہندوستان کے خارجہ امور کے انتظامات کا انچارج بھی ایک ہندوستانی تعمیر ہی ہو گا علاوہ بریں دیگر کٹو کونسل کے ممبران کا انتخاب وائسرائے ہند آئندہ ہندوستان کے پولیٹیکل لیڈروں کے مشورہ سے کریں گے۔ایگزیکٹو کونسل کے ممبران کی مشرائط کی منظوری ملک معظم سے لی جایا کریگی۔اس عارضی گورنمنٹ کے قیام کا ہندوستان کے قطعی آئینی تصفیہ پر کسی طرح بھی اللہ نہ پڑے گا۔نئی ایگزیکٹو کونسل کا بڑا کام یہ ہوگا (1) جاپان کے خلاف پوری طاقت سے جنگ لڑ کی بجائے حتی کہ اسے کمل شکست ہو جائے (۲) ہندوستان کے مستقل آئین کے فیصلہ ہونے تک برطانوی ہند کی حکومت کے کام کو ان تمام ذمہ داریوں کو سامنے رکھا و جلد از جلد جنگ کے بعد کی تعمیر کے سلسلہ میں ہندو انا کے سامنے پڑے ہیں چلایا جائے (۳) جب ممکن ہو اس بات پر غور کریں کہ کن رسائل کو اختیار کرنے سے ہندوستانی پارٹیاں باہمی سمجھوتہ کر سکتی ہیں۔میری رائے میں یہ کام بہت اہم ہے۔میں اس بات کو چھپانا نہیں چاہتا کہ ان تجاویز سے ملک منظم کی حکومت کا مقصد ہندوستانی لیڈروں میں بانچی سمجھوتہ کو آسان بنانا ہے" وائسرائے ہند لارڈ ویول نے اپنی تقریر کے آخر میں کہا۔ہمارے راستہ میں کئی نشیب و فراز ہیں۔ہر طرف ہمیں معات کرو اور بھول بھاؤ کے سنہری اصول پر عمل کرنا پڑے گائے الفضل احسان جون مش صفحه ۸ کالم ۱-۰۲ +1970