تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 267 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 267

PHI برطانیہ کے سیاستدان کوئی حل تلاش کرنے کے لئے سر ظفر اللہ خاں صائب ایسے لوگوں سے مشورہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں جو کسی خاص سیاسی پارٹی سے گہرا تعلق نہیں رکھتے۔بہر کیفت سر ظفر اللہ خان صاحب کے سفر ولایت پر ان کی تجاویز کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ برطانیہ کے ہندوستان کو خود مختاری کے وعدے کے لئے وقت کی تعیین ہو بھانی چاہیئے۔نیز یہ کہ بجاپانیوں سے جنگ ختم ہونے پر ایک سال تک کا وقت ایک مستقول مدت ہے۔دہلی میں عام طور پر خیال ظاہر کیا جا رہتا ہے کہ طرز حکومت میں تبدیلی یقینی ہے۔نیز یہ کہ ہمطانیہ کو اپنے مفاد کے پیش نظر مسلہ کوئی قدم اُٹھانا چاہیے لے ہندوستان ٹائمز کے اس بیان سے یہ امر با لکل عیاں ہے کہ برطانوی حکومت اپنے نمائندہ لارڈ ویول ) سے مشورہ کے ساتھ سہندوستان کی جلد آزادی کو جو فارمولا بھی تیار کر رہی تھی وہ چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کی اٹھائی ہوئی تحریک کے زیر اثر تھا جس نے ہندوستان سے زیادہ برطانیہ کو فوری توبہ دینے پر مجبور کر دیا تھا۔المختصر لارڈ ویول آزادی کا نیا فارمولا لئے وارد ہند ہوئے اور آپ نے ۱۴ جون لارڈ ویول کا فارمولا کے کو آٹھ بج شام آل ال بایڈیپوٹیشن سے تقریر کی جس میں وہ تجاویز پیش کیں جو ہندوستان کے سیاسی تعطل کو دور کرنے کیلئے وہ برطانوی حکومت کی طرف سے لائے تھے۔الارڈ ویول نے اپنی تقریر میں کہا :- مجھے ملک معظم کی حکومت نے اختیار دیا ہے کہ میں وہ تجاویز جن کا مقصد ہندوستانی کی موجودہ پولیٹیکل صورت حالات کو بہتر بناتا ہے اور مکمل سیلف گورنمنٹ کی منزل کی طرف ہندوستان کوئے جاتا ہے، ہندوستان کے پولیٹیکل لیڈروں کے سامنے دیکھوں۔۔۔۔ملک منتظم کی حکومت کو امید تھی کہ فرقہ وارانہ مسئلہ کے متعلق ہندوستان کی سیاسی پارٹیوں میں کوئی نہ کوئی مجھوتہ ہو جائے گا لیکن ہے امید پوری نہیں ہوئی۔اس لئے میں، ملک معظم کی حکومت کی طرت سے پورے اختیارات کے ساتھ یہ تجویز پیش کرتا ہوں کہ ہندوستان کی منظم پولیٹیکل پارٹیوں کے نمائندوں پرمشتمل نئی ایگرز کٹو کونسل مرتب کرنے کے لئے میں مرکزی اور صوبائی پولٹیکل پارٹیوں کے لیڈروں کو دعوت دوں گا کہ وہ اپنے مشوروں سے مجھے مستفید کریں۔مجوزہ ایک کٹو کونسل میں تمام بڑے بڑے فرقوں کو نمائندگی دی جائے گی۔اس میں اعلیٰ ذات کے ہندوؤں اور مسلمانوں کو " الفضل" بد امنی ۲۲ ب صفحہ یہ کالم