تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 266
خلاف جنگ کے خاتمہ کے بارہ ماہ تک اگر ہندوستانی کوئی متحدہ مطالبہ کریں تو اس کے مان لینے کا حکومت برطانیہ ابھی اعلان کر دے۔لیکن اگر ہندوستانی اس قسم کا کوئی سمجھوتہ نہ کر سکیں تو " برطانیہ ہندوستان میں درجہ تو آبادیات پر منتج ہونے والے آئین معیار کا کر دے جو اس وقت تک جاری رہیں جب تک کہ ہندوستانی مختر بند کر خود اس میں ترمیم نہ کریں اس امر کے متعلق روشن خیال قدامت پسندوں کے رویے کا ذکر کرتے ہوئے ٹائمز لنڈن " لکھتا ہے اگر مناسب باہمی سمجھوتہ کو برطانیہ کے غلات پھیلنے والے جذبات کی جگہ نہ دی گئی تو یہ جذبات اس حد تک پہنچ سکتے ہیں کہ جنگ کے بعد برطانیہ اور ہندوستان کے ان تعلقات کو تباہ کر دے جو حالیم بعد از جنگ میں دونوں ملکوں میں قائم ہونے چاہئیں اور حین پر دونوں ملکوں کے مستقبل اور عام تحفظ کا اس قدر مدار ہے۔برطانیہ کے مختلف مفکرین اور سیاست دانوں نے " ٹائمز " اور دیگر اخباروں کے کالموں میں اس مسئلہ کے متعلق سیر کن بحث کی اور فی الحقیقت سر ظفر اللہ خان صاحب کی تجاویز پہ ہندوستان کی نسبت برطانیہ میں زیادہ سنجیدگی سے غور کیا گیا۔ان لوگوں میں سے اکثر نے بنہوں نے اس بحث میں حصہ لیا اس یقین کا اظہار کیا کہ کرپس کی تجاویز کے متعلق برطانیہ کی موجودہ پالیسی یعنی سب لے لو یا سب چھوڑ دو" میں جنگ کے دوران میں اور جنگ کے پور مہندر ستان کے مطالبے تعلقات خراب کرنے کے خطرات سے پُر ہے برطانوی نامہ نگاروں نے دو بجا دیتے ہیں کی ہیں۔اول مکمل طور پر ہند دستان کو اختیارات دے دینے کے سلسلے میں برطانیہ کو ہندوستان کا طرز حکومت میں بتدریج تبدیلی شروع کر دینی چاہئیے۔دوم حکومت برطانیہ کی فرقہ وارانہ سوالات کے حل پر دوسرے زاویہ نگاہ سے اس احساس کے ماتحت غور کرنا چاہیئے کہ یہ اختلافات کہنا۔استانی سیاست دانوں کے علاوہ برطانوی سیاستدانوں کے لئے بھی موجب ہمت ہیں گزشتہ دو ماہ سے برطانیہ کے لوگوں میں اس قسم کے شدید جذبات پیدا ہو رہے ہیں کہ سینہ۔مشرقی ایشیا میں امن قائم رکھنے کے لئے ہندوستان کا استحصاد یکر تمہاری پتھر کا کام دے نیز یہ کہ صرف متحد ہندوستان ہی آئندہ کی حفاظتی سکیم میں موثر ہوتا ہے۔