تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 251
۲۴۵ ۴- سکتا ہے کہ دنیا حیران رہ جائے۔ان جماعتوں کے طریق و تدابیر سے اور بعض حالتوں میں مقاصد سے بھی اختلاف کیا جا سکتا ہے اور خود ہم نے بھی ان کی تنقید میں کبھی قاتل نہیں کیا۔لیکن کیا یہ حقیقت حد درجہ رنجیدہ نہیں کہ جن جماعتوں نے ہر سعی کو حصول آزادی پر موقوف و ملتوی رکھا ان کے طرز عمل سے اختلاف کیا گیا۔لیکن جن جماعتوں اور گروہوں نے کسی مشروط یا عہد و پیمان کے بغیر ہرقسم کی قربانیوں کو آزادی جمہوریت کی حمایت کے خیال سے نیز ہندوستان کی حفاظت کے خیال سے ضروری قرار دیا۔وہ بھی اس وقت تک منزل آزادی سے قریب تر نہیں ہوئے۔- اخبار احسان" بلاشبہ ہندوستان میں اختلافات موجود ہیں اور ان اختلافات کا فیصلہ خود ہندوستانیوں کو کرنا چاہیے اس لئے بھی کہ وہی فیصلہ کے حقدار میں اور اس لئے بھی کہ انہی کا فیصلہ پائدار ہو گا چوہدری مر طف اللہ خاں نے اس سلسلہ میں چین کی مثال پیش کی کہ وہاں بھی کمیونسٹوں اور مارشل چیانگ کائی شیک کی قومی پارٹی (کونٹانگ میں اختلافات ہیں۔ہم اس مثال کو ہر لحاظ سے اپنے حالات کے مطابق نہیں سمجھتے۔تاہم کیا حکومت برطانیہ کے لئے یہ زیبا ہے کہ ہمارے اختلافات کی وجہ سے سارے سلسلہ کاروبار کو معطل کئے بیٹھی رہے اور چُپ چاپ یہ دیکھتی رہے کہ کب ہمارے اختلافات مٹتے ہیں اور کب اُسے آزادی ہند کے مسئلے پر سنجیدگی کے ساتھ توجہ کا موقع ملتا ہے" اختبار احسان “ نے ۲۲ فروری ۱۹۳۵ء کی اشاعت میں لکھا :- در سر ظفر اللہ خاں نے لندن میں ایک اور تقریر کی جس میں ایک سرکاری ممبر ہونے کے باوجود آپ نے صاف گوئی سے کام لیا ہے۔آپ نے برطانوی مدیروں سے کہا ہے کہ ان نازک لمحات میں برطانیہ کو جو فتہ بات ہوئی ہیں وہ قابل تعریف ہیں۔امریکہ سے برطانیہ نے معاملہ کیا تو اس میں برطانیہ کو کامیابی ہوئی۔روس سے بات چیت ہوئی تو اس میں بھی برطانیہ کو فتح ہوئی آگے بڑھنے کے لئے جس طرف بھی قدم اُٹھے تو برطانیہ کو ناکامی نہ ہوئی۔لیکن اس لمبی پھوڑی دُنیا میں کیا برطانیہ صرف ہندوستان کے معاملے میں ہی شکست تسلیم کرنا چاہتا ہے ؟ معلوم نہیں برطانیہ کے مدیروں نے سر ظفر اللہ کی ان باتوں کو کن جذبات کے ماتحت سُنا ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے جس کا احساس آج میر ظفر اللہ جیسے انسان کو بھی ہو رہا ہے اور کس قدر افسون الفصل ۲۴ تبلیغ / فروری مش صفحه و کالم به