تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 249
۲۷۳ ناروں کے ذریعہ اس آواز کو امریکہ میں پھیلایا اور رائٹر کے نمائندہ نے اُسے ہندوستان میں پہنچایا۔اور پھر ہندوستان کے مختلف گوشوں سے اس کی تائید میں آوازیں بلند ہونا شروع ہوئیں۔اس طرح تھوڑے دنوں کے اندر اندر حضرت مصلح موعود کی آواز سے ہندوستان، انگلستان اور امریکہ گونج اُٹھے چودھری صاحب نے کامن ویتھ ریلیشنز کا نفرنس میں جو معرکۃ الآراء تقریمہ کی اس نے تاریخ آزادی ہند میں ایک نئے اور سنہری باب کا اضافہ کیا۔آپ نے فرمایا :- ہندوستان کو اپنے حصول مقصد سے زیادہ دیر تک روکا نہیں جا سکتا۔ہندوستان نے برطانوی قوموں کی آبادی کی حفاظت کے لئے پچیس لاکھ فوج میدان میں بھیجی ہے مگر وہ اپنی آزادی کیلئے دوسروں سے بھیک مانگ رہا ہے۔ہندوستان کی حالت اب بدل چکی ہے۔جنگ نے اُسے اپنی اہمیت کا پورا احساس کرا دیا ہے۔اس کے صنعتی ذرائع منتظم ہو چکے ہیں۔اور آج وہ اتحادیوں کے لئے آلہ کے گودام کا کام دے رہا ہے۔اتحادی چین کو بڑی چار طاقتوں میں شمار کرنے لگے ہیں۔مگر ہندوستان کی اہمیت بھی کچھ کم نہیں۔ہندوستان کئی پہلوؤں سے چین سے آگے ہے۔چین صرف آبادی اور رقبہ کے مقابلے میں آگے ہے ورنہ صنعت ، قوت ساخت ، اعلیٰ تعلیم ، آرٹ ، سائنس ، رسل و رسائل ، صحت، قیام امن و آئین اور دیگر تمام معاملات میں ہندوستان کا مورچہ بلند ہے۔ہندوستان کے اندرونی اختلافات کچھ بھی ہوں مگر وہ چینیوں کے باہمی تفاوت سے زیادہ خطرناک ثابت نہیں ہو سکتے۔ہندوستان پر کئی بار حملے ہوئے ہیں مگر ہندوستان نے کبھی بھی کسی پر حملہ نہیں کیا۔ہندوستان کب تک انتظار کر سکتا ہے۔وہ آزادی کی طرف پیش قدمی کر چکا ہے۔اب اسے امداد دیں یا اس کے راستہ میں مزاحم ہوں اُسے کوئی روک نہیں سکے گا۔اگر آپ چاہیں گے تو وہ کامن ولیہ کے اندر رہ کر ہی آزادی حاصل کرے گا۔ہندوستان کی مہنگی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا :- جنگ سے پہلے ہندوستان مقروض تھا مگر دوران جنگ میں اس نے اتنی مالی امداد دی ہے کہ اب وہ قرض خواہ بن گیا ہے۔اس نے رضا کارانہ طور پر ۳۵ لاکھ نو 5 دی ہے۔آئندہ امن کے قیام میں و" " الفصل ۲۳ احسان الیون ۱۳۳۲ صفحه ۲ کالم ۲ ۱