تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 248 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 248

۲۴۲ پر اثر ہو سکتا ہے۔میں انگلستان کو نصیحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں خواہ میری یہ نصیحت ہوا میں ہی اُڑ جائے۔اور اب تو ہوا میں اڑنے والی آواز کو بھی پکڑنے کے سامان بھی پیدا ہو چکے ہیں۔یہ ریڈیو ہوا میں سے ہی آواز کو پکڑنے کا آلہ ہے۔پس مجھے اس صورت میں اپنی آواز کے ہوا میں اُڑ جانے کا بھی کیا خوف ہو سکتا ہے جبکہ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالے میری ہوا میں اُڑنے والی آواز کو بھی لوگوں کے کانوں تک پہنچا دے"۔کامن ولیت بیشتر کانفرنس میں اللہ تعالئے اپنے برگزیدہ بندوں کی زبان کو بسا اوقات اپنی زبان بنا لیتا ہے۔یہی صورت یہاں ہوئی حضرت امیر المومنین چوہدری مختلف الشیرمال سانتریت پر در خان کے خطبہ کے معا بعد اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے سامان پیدا کر دیئے کہ حکومت ہند نے احمدیت کے مایہ ناز فرزند چوہدری محمد لف الشعر خاں صاحب کو (جو ان دنوں ہندوستان کی فیڈرل کورٹ کے جج تھے) کامن ویلتھ ریلیشنز کا نفرنس میں ہندوستانی وند کے قائد کی حیثیت سے انگلستان بھیجوایا۔۷ار فروری شاد کور NOUSE CHAT CHAN میں کانفرنس کا افتتاح ہوا جس میں آپ کو بھی خطاب کرنے کا موقعہ دیا گیا۔باوجودیکہ آپ اس وقت سرکاری نمائندہ تھے اللہ تعالی نے اپنے تعرت خاص سے آپ کو یہ توفیق بخشی کہ آپ نے حضرت مصلح موعود کے خطبہ کے بیان کردہ مطالب کو نہایت عمدگی اور کمال خوبی سے اپنی زبان میں انگلستان کے سامنے رکھا اور برطانیہ سے ہندوستان کے لئے مکمل در بعد نو آبادیات دیئے جانے کا مطالبہ ایسے پر زور، اثر انگیز اور پُر قوت و شوکت الفاظ میں پیش فرمایا کر پوری دنیا میں ایک تہلکہ مچ گیا۔چنانچہ انگلستان کے سر بر آوردہ اخبارات میں بڑے بڑے لیڈروں نے چھ مرید کی صاحب کی تقریر کے خلاف یا اس کی تائید میں مضامین لکھے۔انگلستان سے امریکہ کے نمائندوں نے ملة الفصل " اصلح بندری مش مسته ۱-۲ و موانا جلال الدین صاحب شمس امام مسجد لنڈن نے حضرت مصلح موعود کے اس خطبہ کے ضروری اقتباس پر شتمل ایک انگریزی دو ورقہ انگلستان میں شائع کیا جو میطانیہ کے وزراء اور دارالعوام اور داوالا مراد کے چھ سو عمران کے علاوہ دیگر عمائدین و اکابرکو بھی بھجوایا جس پر سکرٹری آف سٹیٹ فار انڈیا ، اول لسٹول پارلیمنٹری انڈر سری آف سٹیٹ فار انڈیا ، سرجان وارڈ لائن رکن پارلیمنٹ کے پرائیویٹ سکڑی، الفرڈ بارنز رکن پارلیمنٹ ، لارڈ نیلنگوس بق گورنہ جنرل و واکس را ہندا سر پیٹک نہین رکن پارلیمنٹ، بریگیڈیر این میڈلی کاٹ سی بی ای رکن پارلیمنٹ اور لارڈرٹیکلی اور دوسرے مورترین برطانیہ نے تحریر کی شکریہ ادا کیا اور حضرت مصلح موعود کی نصیحت کو خاص دلچسپی سے مطالعہ کیا تفصیل کیلئے ملا حظہ ہو الفضل و احسان ایتون میش صفحه ۵) انگلستان کے علاوہ گورنر مشرقی افریقہ سر فلپ چل کی تحریک پر چودھری محمد شریف صاحب بی۔اے نے مشرقی افریقہ ریڈیو سے بھی حضور کے خطبہ کا خلاصہ نشر کیار" الفضل ستمبر سلامت اس طرح خدا تعالیٰ نے حضور کی آواز کو دنیا کے کنارے تک پہنچانے کا انتظام فرما دیا۔" ۱۳۲۴