تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 232
۲۲۶ لئے آریوں کو یہ بلاوا بھی ان کے گھروں تک پہنچ گیا۔حضرت میر صاحب کی اس دعوت کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے نشان متعلقہ لیکھرام سے متعلق مولوی شریف احمد صاحب امینی اور مولوی عبد الرحمن صاحب مبشر نے مختصر تقریریں کیں۔اسی اثناء میں آریوں کی طرف سے پنڈت ترلوک چند صاحب چند ساتھیوں سمیت مسجد اقصی میں آگئے حضرت میر صاحب نے انہیں اپنے پاس بلاگہ بٹھایا اور فرمایا کہ آیہ صاحبان اس مجلس میں ہمارے مہمان ہیں۔ہم ان کا ہر طرح سے حافظ رکھیں گے اس وقت پہلے ہماری طرف سے مولوی ابوالعطاء صاحب تقریر کریں گے اور مناسب وقت میں پیشگوئی کی وضاحت کرتے ہوئے آریہ پنڈت صاحب کے اعتراضوں کا جواب بھی دیں گے۔اس تقریر کے بعد پنڈت ترلوک چند صاحب اس تقریر پر یا پیشگوئی درباره لیکھرام پر مناسب وقت میں سوال کریں گے۔پھر مولوی صاحب جواب دیں گے اور جلسہ ختم ہو گا۔اس اعلان کے بعد مولانا ابوالعطاء صاحب نے لیکھرام سے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے قہری نشان پر روشنی ڈالی اور آریوں کے بعض اعتراضوں کا نہایت خوبی سے باطل ہونا ثابت کیا نیز بتایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۲۰ فروری ۱۸ء کو اپنی ذریت کے پھیلنے اور مصلح موعود کی ولادت کے متعلق اشتہار دیا تو پنڈت لیکھرام نے مار مارچ شہ کو بذریعہ اشتہار یہ پیشگوئی کی کہ "آپ کی ذریت بہت بلند منقطع ہو جائے گی۔بغایت درجہ تمین سال تک شہرت رہے گی لے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد با برگ و بار ہو رہی ہے اور مصلح موعود اپنی پوری شان سے ہمارے در میان موجود ہے اور احمدیت کی قبولیت و شہرت دُنیا کے کناروں تک پہنچ چکی ہے مگر اس کے مقابل پندرت لیکرام حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی پیشگوئی کے مطابق سنشانہ میں قتل ہو گئے اور لا ولد رہے۔ان کے پیچھے ان کا کوئی لڑکا نہیں رہا۔وہ احمدیت کو مٹانا چاہتے تھے لیکن اس میں بھی سراسر نا کام و نامراد رہے بیٹے مولانا ابو الخطاء صاحب کی تقریر کے بعد حضرت میر صاحب نے پنڈت ترلوک چند صاحب کو موقعہ دیا کہ وہ مناسب وقت میں اس کا جواب دیں مگر پنڈت ترلوک چند صاحب نے ادھر اُدھر کی باتیں کر کے اپنا وقت ختم کر دیا جس پر مولانا ابو العطاء صاحب نے مختصر تقریر کی اور کہا کہ پنڈت صاحب نے موقعہ منے کے باوجود ہمارے کسی بیان یا استدلال کو نہیں توڑا جس سے ہمارے بیان کا درست ہونا ثابت ہے۔آخر میں آپ ے کلیات آریہ مسافر " صفحه ۷۹۸ : " الفضل " اذر امان / مارچ به بیش صفحه ۳-۴ به