تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 233 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 233

۲۲۷ نے قادیان کے آریوں اور غیر احمدیوں کو مخاطب کر کے ایک پر درد اپیل کی کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے نشانوں کے گواہ ہیں بحضور پر ایمان لے آئیں۔ازاں بعد حضرت میر محمد اسحاق صاحب نے کھڑے ہو کر فرمایا۔سب حاضرین نے دونوں طرف کی تقاریر سُن لی ہیں۔ہمیں پنڈت ترلوک چند صاحب سے کہتا ہوں کہ آپ اپنے مذہب کے عالم ہیں۔مولوی ابوالعطاء صاحب بھی موجود ہیں۔پنڈت صاحب ذاتی طور پر نہ کہ جماعتی طور پر مولوی صاحب سے پنڈت لیکھرام کے متعلق پیشگوئی پر تبادلہ خیال کر لیں۔ہم سب سنیں گے بوشرطیں پنڈت صاحب پیش کریں گے میں ان کے منوانے کا ذمہ دار ہوں، اس پر آپ نے پنڈت صاحب کو موقعہ دیا کہ وہ ہاں کریں لیکن پنڈت صاحب نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ میں نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ نہیں کیا اس لئے معزند ہوں۔اس مرحلہ پر آپ نے فرمایا کہ میں پنڈت ترلوک چند صاحب سے پوچھتا ہوں کہ آپ کافی عرصہ قادیان میں رہے ہیں کیا پنڈت لیکھرام کی یہ پیشگوئی کہ آپ (مرزا صاحب) کی ذریت بہت جلد منقطع ہو جائے گی غایت درجه تمین سال تک شہرت رہے گی“ (کلیات مشہ صحیح نکلی یا غلط ثابت ہوئی ؟ پنڈت صاحب نے بڑے لیت و لعل کے بعد کہا۔آریہ سماجی کہتے ہیں کہ یہ اشتہار پنڈت لیکھرام جی کا لکھا ہوا نہیں ہے۔حضرت میر صاحب نے فرمایا کہ اول تو ان اشتہارات کے شروع میں شردھانند جی نے تحریر کیا ہے کہ " ذیل کے دو اشتہارات پنڈت جی دلیکھرام ہی نے اس وقت نکالے تھے جبکہ مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے الہامی چونچلوں کا ابھی صرف آغازہ ہی ہوا تھا " (کلیات صفحہ ۲۹۲) دوسرے میں پوچھتا ہوں کہ آپ یہ بتائیں کلیات صفحہ ۴۹۸ کی پیشگوئی (خواہ کسی نے لکھی ہو۔جھوٹ ثابت ہوئی یا نہیں ؟ صاف جواب دیں۔اس پر پنڈت صاحب کو ان کے ساتھیوں نے اشارہ کر کے بلایا اور پیل دیئے۔اس ایمان افروز نظارہ پر اس جلسہ کا خاتمہ ہوا۔قبل جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ یہ حضرت میر محمد الحق صاحب کی زندگی کا آخری مجلہ اور آخری تبلیغی معرکہ تھا۔گذشتہ سال سر رمیش میں حمدی مبلغین نے صوبہ یو۔چی کا طویل اور کامیاب دورہ کیا تھا۔امسال ماہ صلح اجنوری میں ة الفصل ۹ در امان مارچ ۳۳۳ صفحه لم : "