تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 231
۲۴۵ سریٹر کی سپنی چیف جسٹس فیڈرل کورٹ آف انڈیا ۲۳ مصلح جنوری سے ہش کو قادیان میں آئے۔اور آنریل چودھری محمد ظفر اللہ خان صاحب کی کو سٹی بیت الظفر میں فروکش ہوئے۔قادیان میں انہوں نے جماعت احمدیہ کے مرکزی اداروں اور صنعتی کارخانوں کو دیکھنے کے علاوہ تعلیم الاسلام ہائی سکول کے ہال میں ایک مختصر تقریر کی جس میں طلباء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں وقت دنیا میں جو بہت بڑی جنگ ہو رہی ہے اس کی اصل وجہ یہی ہے کہ دنیا سے سچا مذہب مفقود ہو گیا ہے۔تم لوگ ایک مذہبی فضا میں پر ورش پا رہے ہو جہاں تمہیں خدا کی محبت تنقیقی امن کی تلاش اور باہمی تکریم وہمدردی کے سبق ملتے ہیں۔اگر آپ لوگ ان معتقدات پر عمل پیرا ہوں جنہیں آپ مانتے ہیں تو دنیا کی حالت بہت بہتر ہو جائے گی اور دنیا کو حقیقی امن اور خوشحالی دینے میں آپ کامیاب ہو جائیں گے لیے مسٹرسی کنگ کمشنر لاہور ڈویژن ۱۲ راه تبلیغ فروردیش کو دوپہر کی گاڑی سے قادیان پہنچے۔اور مرکزی ادارے دیکھ کر شام کی گاڑی سے واپس تشریف لے گئے۔آپ نے مرکزی لائیبریری میں مختلف زبانوں کی نایاب کتابوں کے متعلق دلچسپی کا اظہار کیا۔نظارت دعوت و تبلیغ کی طرف سے آپ کو اسلامی لٹریچر بھی ہدیہ پیش کیا گیا ہے قادیان کی آریہ سماج نے ۲-۲۰۱۵ امان امار توری ۴، امارات کو پنڈت لیکھرام کی یاد میں ایک جلسہ منعقد کیا جس میں پنڈت تلوک چند صاحب اور بعض دوسرے آریہ مقرین نے حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی پیشگوئی متعلقہ لیکرام اور دوسری واضح پیشگوئیوں پر تمسخر اڑایا اور جماعت احمدیہ پر سوقیانہ اعتراضات کئے جماعت احمدیہ کی طرفت سے جواب دینے کے لئے وقت طلب کیا گیا مگر منتظمین نے انکار کر دیا جس پر۔در امان مارچ کی درمیانی شب کو حضرت میر محمد اسحق صاحب کی زیر صدارت مسجد اقصیٰ میں جوابی جلسہ منعقد کیا گیا حضرت میر صاحب نے اپنی ابتدائی تقریر میں وہ بیٹی پڑھ کر سنائی جو سکرٹری تبلیغ جماعت احمد یہ قادیان کی طرف سے آریہ سماج کو لکھی گئی اور انہیں دعوت دی گئی کہ اس جلسہ میں آئیں اور ہماری تقریروں پر تہذیب سے سوال در می محمدانی مین کی ستاد میری یاد گار اس یادگار جلسه جواب بھی کریں چونکہ منارہ اسی کے اُوپر بھی لاوڈ سپیکر نصب تھا اور آواز پورے شہر میں گونج رہی تھی اس ا at العضل " ۲۵-۱۲۶ صلح / جنوری مش صفحه ۲ ۱ + ۲۴ تبلیغ / فروری سه مش صفحه ۳ کالم ۳ ار امان / مارچ # صفرا +