تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 208
۲۰۲ ریش کے آخر میں ایک دوست نے جماعت اسلامی" کے نظریات و عقائد کی نسبت دو سوالات حضرت امیر المومنين الصلح الموعود کی خدمت میں لکھ کر بھیجے جن کا جواب حضور نے اپنے قلم سے تھر یہ فرمایا۔یہ سوالات مربع جوابات درج ذیل کئے جاتے ہیں :- سوال اول۔تحریک جماعت اسلامی سے حضور واقف ہوں گے۔سید ابوالاعلیٰ مودودی اور ان کے ساتھی اسلام کے متعلق حسب ذیل نظریہ رکھتے ہیں۔قرآن اللہ تعالے کا نازل کردہ انسان کے لئے ضابطہ حیات ہے جو اخلاقی ، تمدنی اور سیاسی توانین کا مجموعہ ہے۔اسلام اس کی کابل پیروی کا نام عبادت رکھتا ہے۔جو شخص اس ضابطہ حیات کی بیجھے نظام باطل کے بنائے ہوئے قوانین پر عمل کرتا ہے وہ صحیح عید نہیں ہے یا جو اعتقادی طور پر تو ضابطہ شریعیت (قرآن) پر ایمان رکھتا ہو مگر عمل دوسرے قوانین پہ کر رہا ہو وہ بھی حلقہ عبودیت سے دور ہے ولائل وما أمروا إلا لِيَعْبُدُوا اللهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّين واعبدوا اللهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ ٣- وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا کیا یہ احمدیت کی رو سے بھی درست ہے ؟ جواب یہ درست ہے کہ قرآن کریم کے ہر ایک حکم پر عمل کرنا اگر طاقت ہو ضروری ہے مگر کلمہ حکمت سے باطل مراد لینا نا درست ہے۔سوال دوم قبل ان الامر كله الله سے استنباط کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی مالک الملک اور فرمانروا ہے۔اس کی حکومت میں کسی کا حکم نہیں چلتا۔انسان کے لئے ضابطہ حیات بنانے کا حق اُسے۔ہے کیونکہ وہی اس کی ضروریات اور رازوں سے واقف ہے مخلوق کا کام صرفت اس کی پیروی میں بنی اس کی فلاح ہے۔اس لئے اگر کوئی شخص خدا کے قانون کو چھوڑ کر یا جو شخص یا ادار نخود کوئی قانون بناتا