تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 209
۴۰۳ ہے ( در آنحالیکہ اس کے پاس خدا تعالے کی طرف سے کوئی CHARTER نہیں ، یا کسی دوستر کے بنائے ہوئے قانون کو تسلیم کر کے اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہے وہ طاغوت (خارج از اطاعت متی ہے اور اس سے فیصلہ چاہئے۔اور اس کے فیصلہ پر عمل کرنے والا بھی مجرم ہے اور اس کی وفادار رعایا میں سے نہیں ہے۔دلائل ١ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمُ بِمَا انْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْحَافِرُونَ۔-1 ا لَمْ تَرَ إِلَى الَّذِيْنَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمُ امَنُوا بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قبلك يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوا أَنْ يَكْفُرُ وا بِهِ ٣- وَلَا تُطِعِ الْكَافِرِينَ۔- وَلاَ تُعِمُ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَنْ ذِكرِنَا۔ه فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِمُوكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ 1 - المُ عَاهَدُ إِلَيْكُمْ يَا بَنِي ادَمَ الاَ تَعْبُدُوا الشَّيْطن۔گر احمدیت ہمیں غیر الہی قوانین کا احترام سکھاتی ہے۔احترام ہی نہیں بلکہ پیروی کا حکم دیتی ہے۔یہ تضاد سمجھ میں نہیں آتا۔وضاحت فرمائی بھائے۔جواب اگر اس کے یہ معنے ہیں کہ غیر مذہبی حکومت کے قوانین پر عمل نہیں کرتا تو ابوالعلی خود بھی عمل کرتے ہیں اور ان کے ساتھی بھی ے افضل ۳۰ نبوت نومبر س ش صفحه ۰۴٫۳ سے ایک شخص اسی زمانہ میں مودودی صاحب دریافت کیا کہ کیا ایک کافر " اسی زبان کہ جنا مودودی صاحب نے ترجمان القرآن میں اس کی حسب ذیل جواب دیا : اگر آپ ایک ایسی حکومتکے اندر رہتے ہیں تو نظام ملکی کو برقرار رکھنے کے لئے جو ضابطے اس نے بنائے ہیں اور جو قوانین پر عامل ایک منظم سوسائٹی کو بحال رکھنے کے لئے ضروری ہیں انہیں خواہ مخواہ توڑنا آپ کے لئے درست نہیں۔۔۔۔۔قانون شکنی کے معنی بد نظمی ( DISORDER ) پیدا کرنے کے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے منشار کے خلاف ہے۔اللہ تعالے اپنی زمین میں نظم دیکھنا چاہتا ہے نہ کہ بد نظمی۔اس لئے اگر آپ خواہ مخواہ اس کی زمین کا نظم بگاڑیں گے تو اس کی تائید سے محروم رہیں گے" (ترجمان القرآن محرم صفر راه (جنوری فروری ۱۱۴ بحواله " رسائل ومسائل" صفحه ۴۲۴۰۴۶۳ طالع و ناشر مرکز می مکتبہ جماعت اسلامی اچھرہ لاہور طبع اول تمبر )