تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 195 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 195

۱۸۹ کو زندہ کر سکتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ عربی زبان جو ایک زندہ زبان ہے اس کا چرچا نہ ہو سکے۔پہلے قادیا میں اس طریق کو رائج کیا جائے۔پھر بیرونی جماعتوں میں یہ طریق بھاری کرنے کی کوشش کی جائے گی چھوٹے چھوٹے آسان فقرے ہوں جو بچوں کو بھی یاد کرائے جا سکتے ہوں۔اس کے بعد لوگوں سے امید کی جائیگی کہ وہ اپنے گھروں میں بھی عربی زبان کو رائج کرنے کی کوشش کریں۔اس طرح قرآن کریم سے لوگوں کی پلیسی بڑھ جائے گی اور اس کی آیات کی مجھے بھی انہیں زیادہ آنے لگ جائے گی۔اب تو میں نے دیکھا ہے۔دعائیں کرتے ہوئے جب یہ کہا جاتا ہے۔رَبَّنَا اثْنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِى لِلْإِيمَانِ آن امِنُوا بِرَتِكُمْ نَامَنَّا تو نا واقفیت کی وجہ سے بعض لوگ بلند آواز سے آمین کہ دیتے ہیں۔حالانکہ یہ آمین کہنے کا کوئی موقعہ نہیں ہوتا۔یہ عربی زبان سے ناواقفیت کی علامت ہے۔اگر عربی بول پال کا لوگوں میں رواج ہو جائے گا تو یہ معمولی باتیں لوگ خود بخود سمجھنے لگ جائیں گے اور انہیں نصیحت کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔یہ رسالہ جب شائع ہو جائے تو خدام الاحمدیہ کے سپرد کر دیا جائے تاکہ اس کے تھوڑے تھوڑے حصوں کا وہ اپنے نظام کے ماتحت وقتاً فوقتاً نوجوانوں سے امتحان لیتے رہیں۔یہ فقرات بہت سادہ زبان میں ہونے چاہئیں۔مصری زبان میں انتشار الادب نام سے کئی رسالے اس قسم کے شائع ہو چکے ہیں مگر وہ زیادہ دقیق میں معلوم نہیں ہمارے سکولوں میں انہیں کیوں جاری نہیں کیا گیا " حضرت مصلح موعود کے اس ارشاد مبارک کی تعمیل معلوم نہیں آجتک کیوں نہیں ہو سکی !!! تیارتھ پرکاش کے لاجواب کی کیا اور اسی ای او نے نیا را یا کہ آیا ان کے کم یا بانی دیانند سرسوتی کی کتاب ستیار تھے پر کاش کا مکمل جواب شائع کیا جائے۔چنانچہ حضور ۱۲ ہجرت امیر میش کو مجلس عرفان میں رونق افروز ہوئے اور ملک فضل حسین کو صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :- میرے دل میں تحریک پیدا ہوئی ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ ستیارتھ پرکاش " کا مکمل جواب لکھا جائے۔اس وقت تک اس کے جس قدر جواب دیئے گئے ہیں وہ سب دفاعی رنگ رکھتے ھیں الفضل بيكم صلح اجنوری بیش صفحه ۴ کالم ۲-۰۴