تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 196 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 196

19۔زیادہ تر لوگوں نے ستیارتھ پرکاش کے چودھویں باب کو اپنے سامنے رکھا ہے اور اسی کا جواب دیتے کی کوشش کی ہے۔ضرورت ہے کہ ستیارتھ پرکاش کے پہلے باب سے شروع کر کے آخر تک مکمل جواب لکھا جائے اور اس جواب میں صرف دفاعی رنگ نہ ہو بلکہ دشمن پر حملہ بھی کیا جائے کیونکہ دشمن اس وقت تک شرارت سے باز نہیں آتا جب تک اس کے گھر پر حملہ نہ کیا جائے۔اس کا ایک طریق تو یہ ہے کہ ستیارتھ پرکاش کے جتنے نسخے شروع سے لے کر اب تک پچھلے ہیں ان سب کو جمع کیا جائے اور پھر ان نسخوں میں جو جو اختلافات ہیں یا جہاں جہاں آریوں نے ستیارتھ پرکاش میں تبدیلیاں کی ہیں وہ سب اختلافات واضح کئے جائیں اور کتاب کا ایک باب اس غرض کے لئے مخصوص کر دیا جائے۔گویا ایک باب ایسا ہو جس کا عنوان مثلا یہی ہو کہ ستیارتھ پرکاش میں تبدیلیاں اور پھر بحث کی بجائے کہ آریوں نے اس میں کیا کیا تبدیلیاں کی ہیں۔پھر جہاں جہاں وہ بہانے بناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کاتب کی غلطی سے ایسا ہو گیا وہاں بھی بحث کر کے واضح کیا جائے کہ یہ کتابت کی غلطی ہو ہی نہیں سکتی۔پھر پنڈت دیانند نے علمی طور پر سہندو مذہب کے متعلق جو باتیں لکھی ہیں ان کے متعلق ویدوں اور ہندوؤں کی پرانی کتابوں سے یہ ثابت کیا جائے کہ پنڈت جی کا پیتا غلط ہے۔اسی طرح ستیارتھ پرکاش کے ہر باب میں جو کوتاہیاں یا غلطیاں پائی جاتی ہیں، الفت سے لے کر می تک ان سب کو واضح کیا جائے۔اسلام پر جو حملے کئے گئے ہیں ان کا بھی ضمنی طور پر جو است آجانا چاہیے۔اس طرح ستیارتھ پرکاش کے رد میں ایک مکمل کتاب لکھی جائے جو کم سے کم سات آٹھ سو صفحات کی ہو اور حسین طرح ستیارتھ پرکاش ایک معیاری کتاب کے طور پر پیش کی جاتی ہے اسی طرح یہ کتاب نہایت محنت سے معیاری رنگ میں لکھی جائے۔بعد میں ہر زبان میں اس کتاب کا ترجمہ کر کے تمام ہندوستان میں پھیلائی جائے۔آپ اس کے لئے ڈھانچہ تیار کریں اور مجھ سے مشورہ لیں اور پھر میرے مشورہ اور میری ہدایات کے مطابق یہ کتاب لکھی جائے۔پہلا باب مثلاً اس کتاب کی تاریخ پرمشتمل ہونا چاہیئے۔دوسرے باب میں ستیارتھ پرکاش کے پہلے باب کا ہجواب دیا جائے اور بتایا جائے کہ اس میں کیا کیا غلطیاں ہیں یا اگر ہم ان باتوں کو ہندو مذہب کے لحاظ سے تسلیم کر لیں تو پھر ان پر کیا کیا اعتراض پڑتے ہیں۔اس طرح شروع سے لے کر آخر تک تمام کتاب کا مکمل جواب لکھا جائے “ لے له الفضل " حكم صلح جنوری ۳۲ به بیش صفر ۴ کالم ۱ تا ۹۳ /