تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 194
IAA حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسّلام چونکہ امت مسلمہ میں زندگی کی روح پھونکنے کے لئے مبعوث ہوئے تھے۔اس لئے حضور نے اپنے عہد مقدس میں عربی زبان کی ترویج کی طرف بھی خاص توجہ فرمائی اور گھر میں ویزہ استعمال میں آنے والے فقر نے بچوں کو یاد کرائے جو حضور کی زندگی میں رسالہ " تشخیز الاذھان کی مختلف اش الحلو میں شائع ہوئے۔حضرت سیدنا الصلح الموعود کی توجہ شیل مسیح موعود ہونے کی حیثیت سے اس سال عربی کی ترویج واشاعت کی طرف پیدا ہوئی اور حضور نے عربی کی اہمیت کے متعلق 19 احسان اریون کو ایک اہم خطبہ دینے کے علاوہ جات میں عربی بول چھال کا رسالہ تصنیف کرانے کا ارادہ فرمایا، چنانچہ حضور نے مجلس عرفان میں ارشاد فرمایا :- عربی زبان کا مردوں اور عورتوں میں شوق پیدا کرنے اور اس زبان میں لوگوں کے اندر گفتگو کا ملکہ پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ۔۔۔ایک عربی بول چال کے متعلق رسالہ لکھیں حضرت مسیح موعود عليه الصلوۃ والسّلام نے بھی عربی کے بعض فقرے تجویز فرمائے تھے جن کو میں نے رسالہ تشجید الاذان میں شائع کر دیا تھا۔ان فقروں کو بھی اپنے سامنے رکھ لیا جائے اور تبرک کے طور پر ان فقرات کو بھی رسالہ میں شامل کر لیا جائے۔در حقیقت وہ ایک طریق ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمارے سامنے پیش فرمایا۔اب ہمارا فرض ہے کہ ہم اس راستہ پر چلیں اور اپنی جماعت میں عربی زبان کی ترویج کی کوشش کریں۔میرے خیال میں اس میں اس قسم کے فقرات ہونے چاہئیں کہ جب ایک دوست دوسرے دوست سے ملتا ہے تو کیا کہتا ہے اور کس طرح آپس میں باتیں ہوتی ہیں۔وہ باتیں ترتیب کے ساتھ لکھی جائیں۔پھر مثلاً انسان اپنے گھر جاتا ہے اور کھانے پینے کی اشیاء کے متعلق اپنی ماں سے یا کسی ملازم سے گفتگو کرتا ہے اور کہتا ہے میرے کھانے کے لئے کیا پکا ہے یا کونسی ہمکاری تیار ہے ؟ اس طرح کی روز مرہ کی باتیں رسالہ کی صورت میں شائع کی جائیں۔بعد میں محلوں میں اس رسالہ کو رائج کیا جائے مخصوصاً لڑکیوں کے نصاب تعلیم میں اس کو شامل کیا جائے اور تحریک کی بجاے کر طلباء جب بھی ایک دوسرے سے گفتگو کریں عربی زبان میں کریں۔اس طرح عربی بول چال کا عام روبج خدا تعالیٰ کے فضل سے پیدا کیا بھا سکتا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ یہودیوں نے ایک مُردہ زبان کو اپنی کوشش سے زندہ کر دیا ہے۔عبرانی زبان دنیا میں کہیں بھی رائج نہیں۔لیکن لاکھوں کروڑوں یہودی عبرانی زبان بولتے ہیں۔اگر یہودی ایک مردہ زبان