تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 187
اور احمدیہ بلڈ نگس کی مسجد میں منبر پر کھڑے ہو کر یہ بے بنیاد تا پاک الزام لگایا کہ خوب یاد رکھو قادیان والوں نے کلمہ طیبہ کو منسوخ کر دیا ہے۔اس میں تمہارے دل میں شک نہیں ہونا چاہئیے " سے سید نا حضرت امیر المومنین المصلح الموعود نے اس ظالمانہ حملہ کا نوٹس لینا ضروری سمجھا اور اس کے جواب میں ۲۳ احسان /جون بش کے خطبہ جمعہ میں مولوی محمد علی صاحب کو دعوت مباہلہ دی، اور نہایت پر جلال الفاظ میں فرمایا :- یہ ایک ایسا اتہام ہے کہ میں سمجھ نہیں سکتا کہ اس سے بڑا جھوٹ بھی کوئی بول سکتا ہے۔وہ قوم جو کلم طیبہ کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد سمجھتی ہو اس پر یہ الزام لگانا کہ وہ اُسے منشور قرار دیتی ہے، اتنا بڑا ظلم ہے اور اتنی بڑی دشمنی ہے کہ ہماری اولادوں کو قتل کر دینا بھی اس سے کم دشمنی ہے۔ہماری اولادوں کو قتل کر دینا اتنی بڑی دشمنی نہیں جتنا یہ کہنا کہ ہم لا اله الا الله مُحَمَّدٌ رَسُولُ الله کے منکر ہیں۔اور ایسا جھوٹ بولنے والے کے دل میں خدا تعالیٰ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی محبت ہرگز نہیں ہو سکتی جیس کے دل میں خدا اور رسول کی محبت ہو وہ ایسا بھوٹ کبھی نہیں بول سکتا۔یہ ہم پر اتنا بڑا الزام ہے کہ ہمارے کسی بڑے سے بڑے مگر شریعت دشمن سے بھی پوچھا بھائے تو وہ یہ کہیگا کہ یہ بھوٹ ہے۔اور میں سمجھتا ہوں۔اب فیصلہ کا صرف ایک ہی ذریعہ ہے۔اگر مولوی صاحب میں تخم دیانت باقی ہے تو وہ احد ان کی جماعت ہمارے ساتھ اس بارہ میں مباہلہ کریں کہ آیا ہم کم عطیہ کے منکر ہیں " اس دعوت مباہلہ کے ساتھ ہی حضرت سیدنا المصلح الموعود نے قبل از وقت یہ بھی بتا دیا کہ وہ کبھی اپنے آپ کو اور اپنے بہو کا بچوں کو اس مقام پر کھڑا نہ کریں گے بلکہ اس عظیم موانا جھوٹ بولنے کے بعد بزدلوں کی طرح بہانوں سے اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو جھوٹوں کی سزا سے بچانے کی کوشش کریں گئے" ہے ہو وہی ہوا جو حضرت امیر المومتین نے پہلے سے فرما دیا تھا یعنی مولوی صاحب موصوف نہ مباہلہ کیلئے آمادہ ہونگے اور نہ اپنا جھوٹا الزام وا نہیں لینے کو تیار ہوئے ، ه هفت روزه پیغام مسلح ماں ہور ۳۱ مئی ۱۹۴۷ء صفحه ۳ " الفضل" ، روفار سودائی را میش صفہ کہ کالم :