تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 186
1A۔عیسائیت کے لئے پیدا ہوئی۔جب فلسطین میں عیسائیوں کی تعداد کم ہو گئی اور اٹلی میں عیسائیت زیادہ پھیلنی شروع ہوئی تو عیسائیت کا مرکز فلسطین نہ رہا بلکہ اٹلی بن گیا اور چونکہ وہ مرکز کفر تھا اس # لئے عیسائیت کفر کے رنگ میں رنگین ہونی شروع ہو گئی ہے اس ضمن میں حضور نے تبلیغ کا بہترین طریق یہ تجویز فرمایا کہ انسان اپنے غیر احمدی رشتہ داروں کے پاس چلا جائے اور اُن سے کہے کہ اب میں نے یہاں سے مر کر ہی اُٹھنا ہے ورنہ یا تم مجھ کو سمجھا دو کہ میں غلط راستہ پر ہوں اور یا تم سمجھ جاؤ کہ تم غلط راستے پر جارہے ہو۔اس عزم اور ارادہ سے اگر ساری جماعت کھڑی ہو جائے تو میں سمجھتا ہوں ابھی ایک سال بھی ختم نہیں ہو گا کہ ہماری ہندوستان کی جماعت میں صرفت احمدیوں کے رشتہ داروں کے ذریعہ ہی ایک لاکھ احمدی بڑھ جائیں گے" تھے یہ تحریک اتنی موثمہ اور کار گر تھی کہ مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے " ناظرین المحدیث ہوشیار ہو بجائیں۔مرزائیت کا ہم آتا ہے“ کے عنوان سے لکھا:۔"خلیفہ قادیان نے اپنے مریدوں کو سخت ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے رشتہ داروں کے گھر جائیں اور ان کو احمدیت کی تبلیغ کریں اور کہہ دیں کہ اب میں نے یہاں سے مرکہ ہی اُٹھنا ہے ورنہ یا تم مجھ کو سمجھا دوکہ میں غلط راستہ پر ہو اور یا تم خود سمجھ لو کہ تم غلط راستہ پر جا رہے ہو۔ناظرین اہلحدیث " مرزائیت کی اس تعلیم کو معمولی نہ سمجھیں ایک اور پرچہ میں مزید لکھا :۔قادیانی خلیفہ اور ان کی وزارت آئے دن ایسے تاکیدی محکم جاری کرتے رہتے ہیں جن سے مرزائیت ترقی کرے۔ہمارے دوست ان تدبیروں کے جوڑ توڑ سے غافل ہیں۔غفلت کا نتیجہ جو ہوتا ہے وہ ظاہر ہے“ کے ولوی محمالی سال کے دو بار اور انگریز مولوی محمد علی صاحب را میراحمدیه امین اشاعت اسلام لاہور) نے ۲۶ سحبت را مئی ۳۳۳ میش کو له الفضل اور وقار جولائی مش صفر و کالم سے اخبار اہلحدیث امرتسر ۱۳ نومبر ، صفحہ 1 کالم راه : " صفحہ کالم اوه که۔4 لوگو در و سمبر م و متحد ہم کا بم و