تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 188
TAY فصل دوم نیاد اصلح الموعود کے آخری نکاح تاریخ سلسلہ میں معروف ایولائی سرمایش کردن ایک خصوصی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس روز حضرت سید عبد الستار صاحب رضی الله کی نہایت مبارک تقریب کی پوتی اور حضرت سید عزیز اللہ شاہ صاحب کی صاحبزادی سیدہ بشری بیگم صاحبہ سیدنا المصلح الموعود کے عقد میں آئیں۔حضرت امیر المومنین الصلح الموعود نے ایک بہت بڑے مجمع میں جومسجد مبارک اور اس کے متصل مکانات الد محمد یہ چوک میں جمع تھا ایک ہزار مہر ہے اس نکاح کا اعلان فرمایا اور نہایت درد بھرے الفاظ میں خطبہ پڑھا جس میں سب سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وہ الہامات بتائے جن کی وجہ سے آپ کو اس تقریب کی طرت تو تبہ پیدا ہوئی۔چنانچہ فر مایا :- ایک دن میں تذکرہ پڑھ رہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مدار فروری سنانے کے حسب ذیل الہامات پڑھے :- (1) كُل الفتُ بَعْدَة (ل) مَظهَرُ الْحَقِّ وَالْعَلَاءِ كَانَ اللَّهَ نَزِّلَ مِنَ السَّمَاءِ ، پھر اس کے بعد ۲۰ فروری کے یہ الہام درج ہیں :- إلى مَعَ الرَّسُولِ اقوم وَالُوهُ مَنْ تَلُومُ (۲) پس پاشده منجوم (۲) افسوسناک خبر آتی ہے۔فرمایا۔اس ابہام پیرو ہین کا انتقال بعض لاہور کے دوستی اه حضرت سیدہ موصوفہ ، ا پریل شاہ کو مقام جہلم اپنے بھیال میں پیدا ہوئیں اور سٹی میں میٹرک کے امتحان کے علاوہ قادیان کی دینیات کی دو جماعتیں بھی اس کیں۔پھر جامعہ نصرت ریوہ سے ایف۔اے کیا۔اس کے بعد بی بیلے کے لئے داخلہ لیا مگر حضرت اقدس سیدنا المصلح الموعود کی طویل المسلسل علالت کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی بے پناہ اور ریموتی ذمہ داریوں کی بجا آودی کے نئے کالج چھوڑ دیا اور اپنے مقدس شوہر کی خدمت کے لئے آخری لمحات تک وقف ہو گئیں۔آپ نے شادی کے معاً بعد ہی لجنہ اماء اللہ کے کاموں میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا۔کے پیش کی ہجرت کے بعد پاکستان میں پیکر بڑی خدمت خلق، سکو ٹمان تربیت و اصلاح وغیرہ کے فرائض انجام دیتی رہیں۔ان دنوں بھتہ کی اور سکرٹری خدمت خلق ہونے کے علاوہ نائب صدر بعد الحمد اللہ مرکزیہ کے عہدہ پر بھی ممتاز ہیں۔ایہ حاشیہ وسا حضرت سیدہ موصوفہ کے چار بہن بھائی ہیں۔از سینه تا مرہ بیگم صاحبه با سید کلیم احمد شاہ صاحب یار نعیم احمد شاه صاحب ہی سید نسیم احمد صاحب ه"۔فضلا و فار جوانی ش مصفاه +147A