تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 154
۱۵۰ کے آنے کا دن قریب آیا تو طلبہ بے قابو ہو گئے اور فیصلہ کر لیا کہ سٹرائیک کریں گے اور تقسیم انعامات کے وقت اور کمانڈر انچیف صاحب کی آمد کے وقت ٹیموں میں بیٹھے رہیں گے۔نہ صفائی کریں گے اور نہ ہی وردیاں پہنیں گے۔ظاہر ہے کہ یہ صورت حال ہمارے لئے تسلی بخش نہ تھی۔یہ عاجز اپنے دستے کا کمانڈر تھا اور مکرم چوہدری فضل داد صاحب نائب کمانڈر تھے۔ہم نے حضرت پرنسپل صاحب تعلیم الاسلام کا لی کی خدمت میں نفاس آدمی بھیجوایا کہ یہ صورت حال پیدا ہو گئی ہے ہماری مدد کی جائے لیکن وہ پیغام رساں کیمپ سے باہر نکلتے وقت گرفتار ہوگیا اور کوارٹر گارڈ میں بھیج دیا گیا۔اس کا ہمیں اس وقت علم نہ ہوا۔اور ہم آپ کی طرف سے کسی پیغام کے انتظار میں رہے۔جب رات ہوگئی اور کوئی جواب نہ آیا تو پہلے ہم نے کا لیوں کے اساتذہ سے رابطہ قائم کیا عضو محترم راجہ این ڈی احمد صاحب ( سابق پرنسپل و ریزی کالی اور ڈ ریکٹر ایمیل ہینڈری، کونل اسلم (جو ہماری بٹالین کے کمانڈر تھے ، برادر مکرم رفیق عنایت مرتبار و آب پینٹر سی ایس پی آفیسر ہیں، ہے، اور اُن پر یہ بات واضح کی کہ ہم سر اٹیک میں شامل نہیں ہوں گے۔اگر سٹرائیک تختم نہ ہوئی تو تعلیم الاسلام کالج کی پلاٹون آکیلی ڈیوٹی پر جائیگی کیونکہ ہم سٹرائیک کو شریعاً نا جائز سمجھتے ہیں۔اور ان سے اپیل کی کہ پاکستان کا پہلا کیمپ ہے۔دہ خود بھی اسٹرائیک ختم کروانے کے خواہشمند تھے۔بہر حال بعض دوستوں کو ساتھ لے کر ہم رات کے وقت خیمے خیمے میں پھرے۔لڑکے گانے گا رہے تھے۔قوالیاں ہو رہی تھیں اور نعرے لگ رہے تھے۔اللہ تعالے کا خاص فضل ہوا۔بہار کی اپیل پواڑ کے آمادہ ہو گئے کہ اگلے روز سٹرائیک نہ کریں اور پاکستان کے نام پر ایسی غیرت دکھائی کہ رات کا باقی وقت جاگ کر تیاری میں گندا ، اور صفا اور تیموں کی تزئین میں لگ گئے۔چنانچہ اگلی صبح کے اندر انجینہ صاحب آئے۔سیدان جنگ، کا نقشہ پیش ہوا کمپنیوں میں باہمی لڑائی کی مہارت کے تمام انداز دکھائے۔اس موقع پر ہارے کچھ طلباء ہو محاذ کشمیر پر فرقان بنائین میں رہ چکے تھے وہ کہ انڈر انچیف صاحب نے پہچان لئے۔ان کی ٹوپی بڑھی تو پوچھا کہ سارے کیمپ میں کتنے ایسے مجاہدین ہیں۔صرف ہمارے ہکا کالج کے طلباء نکلے۔تقسیم انعامات کے لئے پنڈال الگ قائم ہو چکا تھا اور مہمانوں کی آمد آمد تھی۔وزراء ، بیج، وائیں چانسلر صاحب ، سکوٹی ، بونیل اور بریگیڈیر پنڈال کے پاس ایک ہی جگہ کمانڈر انچیف