تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 155
۱۵۱ صاحب کے استقبال کے لئے اکٹھے کھڑے تھے۔طلباء پنڈال میں تھے۔اساتذہ بھی تھے کہ اسی آفیسر نے پھر کوئی نازیبا الفاظ کہے جس پر پنڈال میں موجود طلباء میں پھر کھچاؤ پیدا ہو گیا۔اس اثناء میں حضرت مرزا ناصر احمد صاحب ایدہ اللہ تعالے) کی کار بھی آتی دکھائی دی۔یہ عاجز آگے بڑھ کر استقبال کے لئے گیا اور آپ کو وہیں روک کر سارے کو الٹ بتائے۔آپ تشریف لائے تو وہ آفیسر بھی استقبال کے لئے آگے بڑھے۔آپ نے سرسری انداز میں پوچھا کہ کیا ہوا تھا۔فرمایا جس کا مفہوم یہ تھا کہ غیر گذری اس بچہ اس آفیسر نے اسی انداز میں کہا۔کہ مجھے ان کی کیا پر وا ہے۔یہ فقرہ کافی بلند آواز سے انہوں نے کہا۔سول اور مڑی آفیسر سب کچھ سن رہے تھے۔آپ خاموش رہے۔انہوں نے دوبارہ یہی فقرہ دوہرایا۔جب سہ بارہ اسی قسم کا فقرہ کہا تو آپ نے بڑے جلال سے بلند آواز میں فرمایا کہ آپ کو پروا نہیں لیکن ہمیں ان کی بڑی پروا ہے۔یہ قوم کے بچے ہیں۔ہم ان کو اس قسم کے اخلاق کی تربیت کے لئے یہاں نہیں بھیجتے اور مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ ابھی ساری پلٹنوں که والپیں بلوا لو اور آئندہ سے کوئی سروکار نہ رکھو۔اس پر کچھ سینٹر آفیسر نے اس افسر کو ایک طرف سے گئے اور اگلے اور مجھے میں اس نے بڑی لجاجت سے معافی مانگی اور شرمندگی کا اظہار کیا۔جب آپد نے یہ فقرات کہے تو مجھے یاد ہے کہ میرے ایک غیر از جماعت ساتھی نے فرط جذبات میں خوشی سے دیوا نہ ہو کہ میرا ہاتھ پکڑا اور اسے اتنا زور سے دبایا کہ کئی دن تک میرا ہاتھ درد کرتا رہا۔پھر تصور میاں صاحب تقریب کے اختتام پر تشریف لے گئے اور محکمہ تعلیم کے ایک بڑے افسر نے کہا کہ میاں صاحب نے سب کی عزت رکھ لی۔اس عجیب واقعہ کا آخری حصہ یہ ہے جس سے ہمارا کوئی تعلق نہ تھا لیکن ہوا اور وہ یہ کہ کیپ کے مقالہ کے بعد جب بھی کوئی اک روانہ ہوتا تو اس میں بیٹھنے والے مرزا ناصر احمد زندہ باد" اور " نہیں ٹی آئی کالی زندہ باد کے نعرے ضرور رنگاتے یہ فلک من کا نوے ہمارے و کہنے کے باوجود نہ رک سکے اور اسی انداز سے یہ کیمپ ختم ہوا" طلبہ سے سادی حیثیت میں محبت بھرا سلوک بلوری محرمعلی صاحب ایم، اسے لکھتے ہیں۔کی۔ایک طالب علم جو جماعت اسلامی کی