تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 153
۱۴۹ کو شکست دیں۔اس آپ کا فرض ہے کہ آپ اپنی قوت اور جوش کا آخری ماشہ خرچ کر کے دوسری ٹیموں کو بمپ کرتے ہوئے پھر اول آئیں اور دنیا پر ثابت کریں کہ بے انصافی کبھی کا نیا نہیں ہو سکتی۔اس کے بغیر آپ کی غیرت کا مظاہرہ نہیں ہو گا۔دل چھوڑنے کا ، ہمت ہارنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اگر بے انصافی روز آپ کو سب سے آخر میں رکھے تو آپ کی غیرت کو چاہیے کہ وہ روز آپ کو پہلی پوزیشن میں لے جائے اور مجھے یقین ہے کہ آپ ایسا کر دکھائیں گے۔آج میرا پہنچنا ممکن نہیں۔میں کوشش کروں گا کہ آخری دو دن آپ کے ساتھ رہوں۔خدا تعالٰی ہمیشہ آپ کے ساتھ رہے۔دیسے میں آج فون کر رہا ہوں شاید کسی ذمہ وارد افسر کی انسانیت بیدار ہو سکے۔آمین فقط ۵۲۰۵۰ ناصر احمد پرنسپل ناصر احمد صاحب نظر یہ پیغام لے کر لاہور پہنچے اور جود عامل بلڈنگ میں جہاں کالج کی ٹیم مقیم تھی۔رب علیہ کو اکٹھا کر کے یہ پیغام انہیں سنایا۔اس ولولہ انگیز پیغام نے طلبہ کے اندر بے انصافی کے مات ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا ایک زبر دست جوش اور بے پناہ جذبہ پیدا کر دیا اور انہوں نے مصمم عہد کر لیا کہ وہ چیمپین شپ حاصل کئے بغیر نہیں رہیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔خدا تعالیٰ کے فضل اور حضریت صاحبزادہ صاحب کی دعاؤں سے کالج کی ٹیم چیمپین شہ کا انفرا است که ربوہ پہنچی۔فالحمد لہ علی ذالک طلبہ کو غیر اسلامی اخلاق و اقدار سے چوہدری محمد علی صاحب ایم۔اسے اپنا ایک واقعہ بیان کرتے بچانے کے لئے ایک حرکت منا فصل ہیں کہ حالات یہ مرد کی بات ہے جب پہلا T۔G۔0۔0 کیمپ ہوا۔یہ کیمپ والٹن میں ہوا تھا اور پاکستان بننے کے بعد پہلا کیمپ تھا۔کیمپ کے ت تسلی بخش نہیں تھے۔ایک سینٹر آفیسر C ADETS اور اساتذہ کو جن کو فوجی بینک لے ہوئے تھے بسا اوقات فحش گالیاں نکلا کرتا تھا۔جنرل رضا ان دنوں ایڈجوٹنٹ جنرل تھے ان کے آنے تک تو بات بنتی رہی۔لیکن جب کیمپ کا خاتمہ قریب آیا اور کمانڈر انچیف صاحب