تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 148
۱۴۴ کی وجہ سے ڈرتے بھی۔لیکن وہ یہ جان گئے تھے کہ اگر کوئی خاص سنگین قسم کی قانون شکنی کے مرتکب نہ ہوں تو اس رعب کے نیچے علم اور کیا اور محبت کا ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر موجزن ہے اس لئے عام جرمانہ وغیرہ ہوتا تو جا کر معاف کو را لیتے۔آپ کبھی بے صبری کا اظہار نہ فرماتے سختی کے وقت سختی بھی فرماتے لیکن دل نرمی کی طرف مائل رہتا۔کھلاڑیوں خصوصاً رؤنگا باسکٹ بال کے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی فرماتے اور ان کی تکریم کرتے۔لیکن اگر کبھی وہ قانون شکتی کرتے تو سختی بھی اتنی ہی زیادہ فرماتے۔ایک روٹنگ کے لڑکے سے غلطی ہوئی ہجو ہمارا کستان تھا کبڈی کا کپتان بھی تھا۔نہایت ذہین طالب علم تھا۔سکالرشپ ہولڈر تھا۔اسے اور خرچ بھی دیتے تھے اور آپ کے گھر سے کھانا بھی آیا کرتا اور اس کی خوب خوب ناز برداری ہوتی۔لیکن جب اس نے کالج کے ایک اُستاد کے ساتھ گستاخی کی تو اُسے دو سال کے لئے کالج سے نکال دیا۔میں نے آپ کو بڑے سے بڑے حادثے پر روتے نہیں دیکھا۔لیکن میں نے دیکھا کہ اس لڑکے کے اخراج از کالج کے فارم پر دستخط فرماتے وقت حضور کی آنکھیں ڈبڈبا آئی تھیں" طلبہ کے ساتھ حضرت صاحبزادہ صاحب کی محبت و شفقت اور ہمدردی کے بے شمار واقعات ہیں۔حال ہی میں آپ نے خطبہ جمعہ کے دوران فرمایا :- میں ایک دفعہ اپنے کالج کے دفتر سے گھر کی طرف جا رہا تھا۔راستے میں مجھے ایک طالب علم طلاحیں کے متعلق مجھے علم تھا کہ وہ بڑا محنتی اور ہوشیار طالب علم ہے۔کوئی مہینے ڈیڈھنگ یونیورسٹی کے امتحان ہونے والے تھے۔میں نے دیکھا کہ اس کا منہ زرد اور منہ پر دھبے پڑے ہوئے ہیں۔بیمار شکل ہے۔یہ دیکھ کر مجھے بڑا سخت صدمہ پہنچا کہ میں نے اس کی صحت کا خیال نہیں رکھا۔ویسے وہ عام کھانا تو کھا رہا تھا۔لیکن ایسے کھانے پر اسلام کا اقتصادی نظام نہیں ٹھہرتا۔میں نے سوچا کہ میں نے ظلم کیا۔کشتی رانی کرنے والے طلباء کو تو میں سویا بین کا معلوہ دیتا ہوں لیکن جو دن رات محنت کرنے والے طلباء میں ان کو میں سویا بین کا حلوہ نہیں دیتا۔میں نے تو بڑی غلطی کی بچنا نچہ اس کو تو میں نے کہا کہ مجھ سے سویا بین نے بجا کر استعمال کرنا لیکن بعد میں میں نے تمام محنتی طلباء کو سویا بین دیتے کا انتظام کر دیا ، پہلے اسے مناسب حال غذا نہیں مل رہی تھی۔اب جب اسے مناسب حال غذا ملی تو پندرہ دن کے بعد میں نے دیکھا کہ اس کے چہرے