تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 149 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 149

۱۴۵ کے دیتے دُور ہو گئے۔چہرے پر سُرخی آگئی۔آنکھوں میں زندگی اور توانائی کی علامات نظر آنے لگیں اور وہ امتحان میں بڑی اچھی طرح سے پاس ہوا۔اچھے نمبر تو وہ ویسے بھی لے لیٹا لیکن یہ بھی ہو سکتا تھا کہ ساری عمر کے لئے وہ بیمار پڑ جاتا۔کئی ایسے عوارض اُسے لاحق ہو جاتے جن سے چھٹکارا پانا اس کے لئے ناممکن ہو جاتا “ حضرت صاحبزادہ صاحب ایدہ اللہ تعالے کالج کی سربراہی طلبہ کی حوصلہ افزائی اور روح کے زمانہ میں طلبہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کس طرح اُن میں) مسابقت میں اضافہ کیلئے جد و جہد شرو با عمل اور روح مسابقت کو بیدار کرنے بلکہ بڑھانے میں سرگرم عمل رہے اس کا اندازہ لگانے کے لئے بطور نمونہ ایک واقعہ درج کیا جاتا ہے۔شروع ما تبلیغ ضروری ہمیش کا واقعہ ہے کہ وہ ہور میں کشتی رانی کے مقابلے جاری تھے جس ی احساسات تعلیم الاسلام کالج کی ٹیم بھی اپنی روایتی شان کے ساتھ حصہ لے رہی تھی۔وہ تبلی فوری کو کالج کی کشتی رانی کی ٹیم کے کیپٹن ناصر احمد صاحب ظفر حضرت مرزا ناصر احمد صاحب پرنسپل کالج کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ مغربی پاکستان اوپن روئینگ چمپیئن شپ کے ارکان نے لاہور کے مقامی کالجوں کے لڑکے ہمارے مقابلہ جات کے لئے بطور منصف مقرر کر دیئے ہیں جس سے صورت حال بالکل ہمارے خلاف ہو گئی ہے۔اس پر حضرت صاحبزادہ صاحب نے اپنے قلم مبارک سے انہیں حسب ذیل پیغام تعلیم الاسلام کالج کی ٹیم کے نام لکھ دیا اور ارشاد فرمایا کہ آپ ٹیم کے سامنے یہ پڑھنے کو سنا دیں۔سے الانی کو سلامی تعلیم الایم کالج کے با غیرت زجوانو! السلام علل والله الله الفضل ۲۳ وفا / جولائی ۱۳۴۷ در بیش صفحه ۳ کالم ۱۲ 71944 + Y