تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 147
۱۳ آپ کا تعلق طلباء سے بھی محبت اور تکریم کا ہوا کرتا تھا۔اُن سے مزاح بھی فرماتے اور بے تکلف بھی ہوتے لیکن حدود قائم رہتیں۔خدام الاحمدیہ کے دور میں کلائی پکڑنے کا شوق تھا میرے علم میں کوئی ایسا شخص یا طالب علم نہیں جو آپ کے مقابلے پر پورا اتر سکا ہو اگر یہ عابدہ کبھی کوشش کرتا تو دو انگلیوں سے کلائی چھڑا لیتے۔طلباء کسی قسم کا بعد یا فاصلہ محسوس نہیں کرتے تھے۔باپ بیٹے کا تعلق تھا جو زندہ اور جاری تھا۔جب مرحوم مبشر احمد لگکھڑ جو بے بعد ہو نہار اور نیک اور ذہین طالب علم تھا قتل ہوا۔اور آپ کی خدمت میں شام کو کراچی میں ضمناً ایک لڑ کے میر احمد کی اطلاع کی گئی تو رات گئے غالباً بارہ ایک بجے کا عمل ہوگا کہ آپ کا فون آیا کہ تفصیل بتائی بھائے۔آپ نے فرمایا کہ مجھے نیند نہیں آرہی اور بے بعد بے چینی ہے۔کیا یہ وہی میر احمد تو نہیں جو ہر وقت مسکراتا رہتا تھا۔افسوس کہ یہ دہی مبشر احمد تھا جس کی وفات پر آپ اس طرح بے چین ہو گئے اور آدھی رات کو کراچی سے فون آیا۔آپ طلبہ کو بلا وجہ ان کے نچلے پن پر ٹوکتے نہیں تھے اور فرمایا کرتے تھے یہ ان کی صحت کی علامت ہے۔ایک مرتبہ ایک طالب علم نے جو جماعت کے ایک مخلص خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور خود ایک بڑی کار پہ ماڈل ٹاؤن سے کالج آیا کرتے تھے آپ کی " ولزلے " کا ریچہ المنار میں چھپنے کے لئے انگریزی میں ایک مضمون لکھا۔میں ان دنوں انگریزی حصے کا نگران تھا۔میں نے شائع کرنے سے انکار کر دیا۔اس پر مصنف نے اصرار کیا کہ حضرت صاحبزادہ صاحب سے پوچھ لیں آپ نے فرمایا۔یہ تو ضرور چھپنا چاہئیے۔میں نے اسے ذرا تریم کر کے چھاپ دیا۔جس دن المنار شائع ہوا۔کوئی چند گھنٹے بعد طالب علم کا نپتا ہوا میرے پاس آیا۔کہنے لگا کہ ادھر یہ مضمون شائع ہوا اور ادھر میری کار کی ٹکر درخت سے ہو گئی۔میری جان بچ گئی۔میں اللہ تعالیٰ کے ایک بندے کی کار پر استہزار کا مرتکب ہوا تھا۔مجھے اس کی سزا مل گئی۔خدا معاف کرے۔آپ طلباء کے اجتماعات میں دلی نشاط اور بشاشت سے شامل ہوتے اور حفظ اُٹھاتے کشتی رانی (ROWING) کے میچوں میں تقریباً آدھ میل تک کشتی کے ساتھ ساتھ اسی رفتار سے دوڑ کر حوصلہ افزائی فرماتھے اور دوسرے کالجوں کے طلباء بارہ بارہ ہم سے کہا کرتے کہ کاش ہمارے پرنسپل بھی بہاری کھیلوں میں اتنی دلچسپی لیں۔خدا تعالیٰ نے بیور رعب دیا ہوا ہے طلباء اس