تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 146 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 146

۱۴۴۴ دی سیانے لگی۔ہال میں طلبہ اکٹھے ہوئے۔اس عاجز سے ارشاد فرمایا کہ سزادو۔جب سزا کا نفاذ ہونے لگا تو فرمانے لگے کہ سزائیں نے آپ کو نہیں اس طالب علم کو دی ہے اور خود باقی سزا اپنے ہاتھ سے نافذ کی۔آجتک واقعہ کا اثر دل پر ہے۔بعد میں کبھی جب سزا دی ہے حضور ایدہ اللہ تعالئے پریم کی کیفیت طاری ہوئی ہے، اور کئی بار ایسا ہوا ہے کہ اس تکلیف سے کتنا کتنا عرصہ گھر سے تشریف نہ ای طلباء آپ سے جو محبت اور عقیدت رکھتے اس کا بیان کرنا مشکل ہے۔چوہدری محمد بوٹا ایک طالب علم ہوتے تھے جو اب IRRIGATION RESEARCH IRRIGATI میں آفیسر ہیں غیر از جماعت ہیں۔انہوں نے حضور کی خدمت میں عرصے کے بعد جب وہ ایم ایس سی کر چکے تھے اور کالج سے جا چکے تھے خط لکھا جس کا مفہوم یہ ہے کہ میں اپنا نام تبدیل کرنا چاہتا ہوں اور میرے دل میں چونکہ آپ کی بے حد قدر اور عزت ہے اور تجھے کوئی اور آپ جیسا عظیم انسان نہیں ملا جس لئے آپ کی اجازت سے اپنا نام ناصر رکھنا چاہتا ہوں چنانچہ آج وہ اسی نام سے موستا زم ہیں۔محمد اشرف ایک طالب علم تھے جن پر کالج کے دنوں میں بظاہر سختی ہوئی تھی۔یورپ کے دورے ( ۱۹۶۷ء) کے وقت دیوانہ وار حضور کی خدمت میں ایڈنبرا ، گلاسگو وغیرہ حاضر رہے۔طلبہ آپ کے والد و شیدا تھے اور آپ بھی بیٹوں کی طرح ان سے سلوک فرماتے تھے۔مجھے یاد ہے کہ آدھی آدھی رات بیمار طلبہ کے سرہانے بیٹھ کر ہاتھ سے چمچے کے ساتھ خود دوائی پلایا کرتے اور تسلیاں ، دیا کرتے۔اس شفقت اور محبت کو دیکھ کر دوسرے طلباء کہا کرتے کہ ہمارا بھی ہمہار ہونے کو جی پر اہتا ہے۔غریب طلبہ کی بہت دلداری فرماتے کہ ان کی امداد اس رنگ میں ہو کہ اُن کی عزت نفس کو ٹھیس نہ لگے۔جو طلباء مزدوری کر کے پڑھتے اُن کی خاص قدر فرماتے اور ان کا اس محبت سے ذکر فرماتے کہ ایسے طلباء کا فخر سے سر اونچا ہو جاتا۔غریب طلباء کی غذا ، دوا ، لباس ، سویا بین اور پتہ نہیں کیا کیا اُن کے لئے نہیں فرماتے۔ڈسپلن کے معاملے میں سختی فرماتے اور پھر دلداری بھی فرماتے۔فرمایا کرتے کہ اُستاد کو باپ اور ماں دونوں کا کام کرنا چاہیے۔سویابین کا بہت شوق تھا اور ہے اور کمزور اور کھلاڑی اور ذہین طلباء کو اس کا حلوا تیار کروا کے کھلایا کرتا ھے اور خوش ہوتے