تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 142 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 142

۱۳۸ اس طالب علم کی قدر کرتے تھے جو علمی شوق رکھتا ہو اور علم کی وسیع شاہراہ پر بشاشت اور محنت کے ساتھ آگے بڑھنے والا ہو۔اللہ تعالے کی حکمت کا ملہ سے آپ کو ابتداء ہی سے اسلامی نظام اقتصادیات سے غیر معمولی دلچسپی، لگاؤ اور شغف رہا ہے اور آپ نے ہر ممکن جد و جہد فرمائی کہ کالج کے نظام تعلیم تربیت سے اس نظام کو زیادہ سے زیادہ ہم آہنگ کیا جائے۔اس بنا پر آپ نے ہمیشہ سادگی پر زور دیا اور طلباء کے اخراجات کو کم سے کم رکھنے کو اپنا ضروری فرض سمجھاتا کہ غریب طالب علم کو اپنی غربت کا احساس نہ رہے۔اور امیر اپنی امارت جتانے میں حجاب محسوس کرے۔آپ کے اسی طرز عمل کا نتیجہ تھا کہ کالج کے بعض غریب طلبہ کسی قسم کے احساس کمتری کا شکار ہوئے بغیر اپنے فارغ اوقات میں محنت اور مزدوری کر کے اپنے تعلیمی اخراجات برداشت کرتے تھے اور آپ بھی اور دوسرا سٹاف بھی ان محنتی اور ہونہار طلبہ کی ہر رنگ میں حوصلہ افزائی اور قدر دانی فرمایا کرتے تھے۔پانچویں خصوصیت۔آپ نے تعلیم و تربیت کی ظاہری تدابیر کو انتہا تک پہنچانے کے باوجود اُن پر کبھی انحصار نہیں کیا اور ہمیشہ خود بھی ہر مرحلے چہ دعاؤں سے کام لیا اور اپنے رفقاء کار میں بھی اس کا ذوق و شوق پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی اور اُن میں یہ احساس پختگی کے ساتھ قائم کر دیا کہ محض ظاہر کر دیکھ بھال اور تربیت کافی نہیں۔ہمارے بچوں کا پہلا اور آخری حق ہم پر یہ ہے کہ ہم دُعاؤں کے ساتھ اُن کی مدد کرتے رہیں۔یہاں بطور نمونہ کالج کے اساتذہ اور طلبہ سے متعلق خود آپ کے بعض دعائیہ کلمات درج کئے جاتے ہیں جن سے ضمناً یہ بھی معلوم ہوگا کہ آپ اس ادارہ کو رفعتوں کے کتنے بلند ترین مقام تک لے جانے کے ہمیشہ متمنی اور آرزو مندر ہے۔اللہ تعالیٰ کے حضور آپ نے ساہش میں دعا کی کہ 71900 انے قادر و توانا خدا ! اسے حقائق اشیاء کو پیدا کرنے والے اور ان حقائق و رموز کو انسانی دل پر الہام کرنے والے خدا ! تو ہماری ان ناچیز مساعی کو قبول فرما اور ہماری تفریعات کوئن اور ہم پر اور ہماری اولاد پر علم کے وسیع دروازوں کو ہر پہلو سے کھول دے۔علم کی روشنی سے ہمارے دل اور دماغ کو منور کر۔اور علم و معرفت کی غیر محدود طاقت سے ہمارے عمل میں ایک نئی روح اور ہماری مساعی میں ایک نئی زندگی پیدا کر کہ ہم اور ہماری نسلیں تیرے عطا کر دہ ٹائم اور تیری بخشی ہوئی معرفت سے پر ہو کر تجھ ہی سے دُعائیں کرتے ہوئے جس میدانِ عمل میں بھی داخل ہوں سب پر