تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 141 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 141

۱۳۷ اس نقشہ کی عملی تشکیل و تعمیر کے لئے مسلسل اکیس برس م م م ا ) ه اش تک سرتا پا وقف اور مجسم جہاد بہتے رہے اور قریباً ربع صدی کی بے پناہ کاوشوں اور معرکہ آرائیوں کے بعد خدا کے فضل اور نصرت مسیح موعود کی دعاؤں اور حضرت مصلح موعود کی قومت قدسیہ کے نتیجہ میں کالچ کو ایک قابل رشک مخصوص اور امتیازی مقام تک پہنچا دیا، اور اس کی بنیادیں ایک ایسے طریق تعلیم اور نظام تربیت پر استوار کیں تو روح و جسم اور علم و عمل پر حاوی اور دین ودنیا کے حسین امتزاج کا بہترین نمونہ ہے۔آپ نے اس اسلامی درس گاہ میں جو مثالی نظام تعلیم و تربیت رائج فرمایا وہ اپنے اندر متعدد خصوصیات رکھتا ہے جن میں سے پانچ صد درجہ نمایاں ہیں اور کالج کی مقدس اور ناقابل فراموش روایات بن چکی ہیں۔پہلی خصوصیت آپ کے قائم کردہ نظام کی یہ تھی کہ آپ نے اپنے پاک نمونہ سے کالج کے اساتذہ میں زیر دست روح پھونکی کہ وہ طلبہ کو قوم کا عظیم سرمایہ یقین کرتے ہوئے ان کے ساتھ شفیق باپ سے بھی بڑھ کو محبت کرتے ، اُن کی بہبود اور ترقی میں ذاتی طور پر دلچسپی لیتے ، اُن کی جائز ضروریات پوری کرتے ، اُن کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے ، ہر وقت بے لوث خدمت میں لگے رہتے اور پوری توجہ اور کوشش کے ساتھ بچوں کی رہبری اور رہنمائی میں مصروف رہتے تھے۔دوسری خصوصیت یہ تھی کہ آپ نے کالج کی قیادت اس رنگ میں فرمائی کہ طلبہ و اساتذہ اسلامی اقدار کے حامل نہیں اور ہمیشہ ہی غلط قسم کی سیاست سے کنارہ کش اور ہڑتالوں اور دوسری مغربی بدعات سے متنفر ہیں۔چنانچہ کالج کی پوری تاریخ گواہ ہے کہ قادیان ، لاہور اور ربوہ تینوں جگہ یہ انسٹی ٹیوشن ہمیشہ ہی ذہنی تکرر اور سیاسی بے راہ روی سے ہر طرح محفوظ و مصمون رہی ہے اور یہ وہ خصوصیت اور امتیاز ہے جس میں تعظیم الاسلام کا لیے اس زمانہ میں نہ صرف برصغیر پاک و ہند بلکہ دنیا بھر کے کالجوں میں منفرد حیثیت رکھتا ہے۔تیسری خصوصیت اس نظام تعلیم و تربیت کی یہ تھی کہ اس درسگاہ کا فکر و عمل ہمیشہ مذہب و ملت کی تفریق سے بالا رہا ہے۔ہر طالب علم خواہ وہ کسی مذہب کسی فرقہ یا سیاسی جماعت سے ہی تعلق کیوں نہ رکھتا ہو ہر قسم کی جائے سہولتیں حاصل کرتا ہے اور اس کالج کے اساتذہ ہر طالب علم کی جسمانی اور ذہنی نشو و نما کی طرف پوری طرح متوجہ رہتے تھے۔چوتھی خصوصیت اس میں یہ تھی کہ یہاں امیر و غریب میں کوئی امتیاز نہیں برتا جاتا تھا۔ایک غریب کی عزت و احترام کا ویسا ہی خیال رکھا جاتا تھا جیسا کہ کسی امیر طالب علم کا ، اور اساتذہ ہر